رمضان المبارک کا مہینہ گزر گیا، اس کے گزرنے سے بہت سے لوگوں پر ایک مایوسانہ کیفیت طاری ہوئی، جیسے کوئی عزیز مہمان رخصت ہو جائے اور بہت دنوں میں اس کے آنے کی امید ہو، بہت سے لوگوں پر ایک اطمینانی کیفیت طاری ہوئی ، جیسے ان کا کام ختم ہو گیا ، اور اب ان پر کوئی ذمہ داری نہیں، یہ دونوں کیفیتیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے منشا اور رمضان المبارک کی روح اور پیام کے منافی ہیں، رمضان اگر رخصت ہوا، تو ایمان اور اس کے تقاضے ، شریعت اور اس کے احکام ، اللہ تعالی اور اس سے تعلق بہر حال باقی ہے۔
رمضان در حقیقت ایک دور کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک دور کا آغاز ہے، رمضان انتہا نہیں ، ابتدا ہے ، رمضان سب کچھ لے کر اور سب نعمتیں تہہ کر کے اور لپیٹ کر نہیں جاتا ہے، وہ بہت کچھ دے کر ، جھولیاں بھر کر اور نعمتیں لٹا کر جاتا ہے، رمضان کے بعد آدمی گنا ہوں سے ضرور ہلکا ہوتا ہے؛ لیکن ذمہ داریوں سے بوجھل اور گرانبار ہو جاتا ہے، اس سب کے باوجود بہت سے بھائی دل میں کہتے ہوں گے کہ رمضان گیا، اب کیا کریں ؟ اس مختصر مضمون میں اسی سوال کا جواب مقصود ہے، یہاں ان باتوں کا تذکرہ کیا جائے گا جو رمضان کے بعد اور ہمیشہ کرنے کی ہیں۔
1- توبه و استغفار
سب سے مقدم اور اہم کام یہ ہے جس کے لیے کسی زمانہ اور مقام کی قید نہیں، مگر رمضان المبارک اس کی تحریک اور تقاضا پیدا کرتا ہے، اور اس کو آسان بنا دیتا ہے، یہ ہے کہ ہم اپنے گناہوں سے تو بہ کریں اور اللہ تبارک و تعالیٰ سے ٹوٹا ہوا رشتہ یا چھوٹا ہوا رشتہ جوڑیں، توبہ کی قرآن وحدیث میں اس قدر ترغیب و تاکید ہے اور اس قدر اس کی فضیلت بیان کی گئی ہے کہ جو ایمان کے بعد سب سے اہم چیز معلوم ہوتی ہے۔ قرآن شریف میں ہے: وتُوبُوا إلى الله جميعاً أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تفلحون” (سورۃ النور : 31) ( تم اے ایمان والو! اللہ کی طرف رجوع اور تو بہ کرو تا کہ تم کامیاب ہو)۔
دوسری جگہ ہے: تُوبُوا إِلى اللهِ تَوْبَةٌ نصوحاً [ سورۃ التحریم: 8) (اللہ سے سچی اور مخلصانہ تو بہ کرو)۔
کہیں کہیں مومنین کے اوصاف بیان کرتے ہوئے بڑی بڑی عبادتوں اور فضیلتوں سے پہلے تو بہ کا ذکر کیا گیا ہے:
اَلتَّائِيُوْنَ الْعَابِدُونَ الْحَامِدُونَ السَّائِحُونَ الرَّاكِعُوْنَ السَّاجِدُونَ الْآمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنكَرِ وَالْحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللَّهِ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ [التوبة : 113) ( وہ تو بہ کرنے والے ہیں، بندگی کرنے والے ، شکر کرنے والے، بے تعلق رہنے والے، سجدہ کرنے والے، حکم کرنے والے نیک بات کا ، اور منع کرنے والے بری بات سے ، اور حفاظت کرنے والے ان حدود کی جو باند ھے اللہ نے ، اور خوشخبری سنادے ایمان والوں کو )۔
حدیث شریف میں آتا ہے: کُلّْکُمْ خَطَّاؤُوٓنَ وَخَيْرُ الْخَطَّائِينَ التَّوَّابُونَ ( تم سب اے انسانو! خطا کار ہو اور گناہ گار ہو، اور خطا کاروں اور گنہگاروں میں سب سے بہتر کثرت سے توبہ کرنے والے ہیں)۔
دوسری حدیث میں ہے: ” التائب من الذنب كَمَن لا ذنب له ” ( گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہو جاتا ہے جیسے اس کا کوئی گناہ ہی نہیں)۔
ایک حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالی کو تو بہ کرنے والے کی توبہ سے ایسی خوشی ہوتی ہے جیسے کہ ایک قصہ ہے کہ ایک شخص اپنا سارا سامان و اسباب خوراک ایک اونٹ پر باندھ کر کے ایک ریگستان کا سفر کر رہا تھا، اس کا اونٹ کھو گیا، وہ شخص اپنی زندگی سے مایوس ہو کر مرنے کے لیے تیار ہو کر سو گیا ، جب اس کی آنکھ کھلی تو اچانک وہ دیکھتا ہے کہ اونٹ سامان سے لدا سرہانے کھڑا ہے۔ وہ خوشی میں ایسا مست ہو گیا کہ اس کی زبان سے یہ الفاظ نکل گئے اور کہنے لگا کہ : ” اے اللہ ! میں تیرا رب ہوں اور تو میرا بندہ، تیرا بڑا شکر ہے ۔ واقعہ بھی یہ ہے کہ تو بہ کرنے والا انسان اپنے آقا کا بھاگا ہوا غلام ہے۔ جب بھی وہ واپس آجائے، آقا کو خوشی ہونی چاہیے، یہ خوشی اس کی ربوبیت ، کرم اور محبت کا ایسا ہی تقاضا ہے جیسا اونٹ کے مل جانے پر انسان کی خوشی ، اس کی بشریت اور احتیاج کا تقاضا ہے۔
توبه ایک مستقل عبادت
قرآن وحدیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے که تو به صرف ضرورت ہی کی چیز اور مجبوری کا معاملہ نہیں ہے، کہ جب آدمی کسی معصیت میں مبتلا ہو جائے تو تو بہ کرے، یہ تو فرض واجب ہے اور اس کے بغیر تو صاحب ایمان کو چین ہونی نہیں چاہیے؟ بلکه توبہ ایک مستقل عبادت ہے، قرب اور محبوبیت کا ذریعہ ہے، اس کے ذریعہ سے جو ترقی ہوتی ہے، اس کو کوئی عبادت نہیں پہنچ سکتی، اس لیے ابرار و صالحین اور مقربین کو بھی اس کی ضرورت ہے، وہ جب کسی تو بہ کرنے والے پر رحمت الہی کی بارش اور اس ذات عالی کی نوازش دیکھتے ہیں تو ان کو بڑی بڑی عبادتیں اس کے سامنے ہیچ اور حقیر معلوم ہونے لگتی ہیں، اور وہ اس وقت اس گروہ میں شامل ہونے کی کوشش کرتے ہیں جو رحمت الہی کا مورد ہوتا ہے۔
سب سے اعلی اور افضل کام
بہر حال رمضان کے بعد سب سے مقدم اور اہم اور سب سے اعلیٰ و افضل کام یہ ہے کہ ہم اپنے سارے گناہوں سے تو بہ کریں اور وقتا فوقتا تو بہ کرتے رہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک مجلس میں ستر ستر اور بعض اوقات سو سو مرتبہ استغفار کرتے تھے، حالانکہ اللہ تعالی نے آپ کے سب اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیے تھے: لِیَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ ومَا تَأَخَّرَ ” [ سورة الفتح :2) قارئین عزیز اس کا خاص اہتمام رکھیں اور تو بہ و استغفار کی دولت حاصل کرتے رہیں، حدیث میں آتا ہے کہ وہ شخص بڑا خوش قسمت ہوگا جو حشر کے دن اپنے نامہ اعمال میں استغفار کی کثرت پائے گا۔
2- ایمان کی تجدید
بہت سے بھائی سمجھتے ہیں کہ ایمان ایک مرتبہ میں لے آنا کافی ہے، اس کے بعد اس کو تازگی ، غذاء تجدید کی ضرورت نہیں، حدیث میں آتا ہے کہ ایمان اسی طرح پرانا ہو جاتا ہے جیسے کپڑا میلا اور پرانا ہو جاتا ہے، اس کو نیا اور اجلا کرتے رہو، صحابہ نے عرض کیا کہ اس کو کس طرح نیا کریں ؟ فرمایا: لا الہ الاللہ کی کثرت کرو۔ خود قرآن شریف میں ہے اَلَم یَآْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الحَقِّ وَلَا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوَ الْكِتَابَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ فاسقون (سورة الحدید۔ (16) کیا وقت نہیں آیا ایمان والوں کو گڑ گڑا ئیں ان کے دل اللہ کی یاد سے اور جو اترا ہے سچا دین ، اور نہ ہوں ان جیسے جن کو کتاب ملی تھی اس سے پہلے، پھر دراز گزری ان پر مدت ، پھر سخت ہو گئے ان کے دل اور بہت ان میں نا فرمان ہیں )۔
اس آیت کے سننے اور پڑھنے کے بعد بعض اصحاب اپنے دل کی سختی اور بے حسی سے شاید مایوس ہوتے اور سمجھتے کہ دل کی یہ زمین بالکل اوسر اور بنجر ہو گئی ہے اور اب بھی اس میں شادابی اور روئیدگی پیدا نہیں ہوگی ، تو معا اس کے بعد ارشاد ہوا: اعْلَمُوا أَن الله يُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا قَدْبَيْنَا لَكُمُ الآياتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ” (سورة الحديد: 17) یاد رکھو کہ اللہ تعالی زمین کو مردہ ہو جانے کے بعد زندہ کر دیتا ہے، ہم نے تمہارے لیے اپنی نشانیاں کھول کھول کر بیان کیں تا کہ تم سمجھو)۔
ایک آیت میں فرمایا گیا ہے: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا [سورة النساء : 136) یہاں بھی ایمان کی تکمیل و تجدید مراد ہے۔
بہر حال ہر شخص کو اپنے ایمان کی تکمیل و تجدید اور تقویت کی ضرورت ہے۔ اس کی کئی صورتیں ہیں: ایک سوچ سمجھ کر، شعور و احساس کے ساتھ ، کلمہ توحید کی تکرار و کثرت ۔ صحابہ کرام سے کہا گیا کہ لا إله إلا اللہ کی کثرت کرو، ظاہر ہے کہ وہ بے سوچے سمجھے اور معنی مطلب پر غور کیے کلمہ کی تکرار اور کثرت نہیں کرتے ہوں گے۔
دوسرے ذکر کی کثرت اور ذکر کی قوت، یہ دونوں مستقل چیزیں ہیں۔ عام حالات میں ذکر کی کثرت ذکر میں قوت پیدا کر دیتی ہے۔ خاص حالات میں ذکر کی قوت کثرت کے قائم مقام بن جاتی ہے۔ قوت کے معنی ہیں کہ خاص کیفیات ، توجہ ، استحضار کے ساتھ اللہ کو یاد کیا جائے۔ ان کیفیات و خصوصیات کے ساتھ تھوڑا سا یاد کرنا بھی تھوڑا نہیں ہے اور بڑے اثرات رکھتا ہے، لیکن یہ بات بڑی استعداد یااعلی یقین یا طویل محنت، یا ندامت اور انابت سے پیدا ہوتی ہے۔
تیسری چیز اہل یقین کی صحبت ہے، جس کی کیمیا اثری اور پارس صفتی دنیا کو تسلیم ہے، اور قرآن مجید کی اس پر مہر لگی ہوئی ہے: یا ایھا الذین آمنوا اتَّقُوا اللهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ” [ سورة التوبة : 119] (اے ایمان والو! اللہ کا لحاظ کرو اور اس سے ڈرو اور صادقین ( راست بازوں ) کے ساتھ رہو )۔
چوتھی چیز اعمال کی کثرت اور مداومت ہے۔ اس سے بھی ایمان میں جلا اور قوت اور زندگی پیدا ہوتی ہے۔
3۔ شريعت کا پاس و لحاظ اور سنت کی اتباع
رمضان کے بعد اور ہمیشہ کرنے والے کاموں میں شریعت کی پابندی اور فرائض و احکام کی بجا آوری ہے ، جس کی خصوصی مشق رمضان میں کرائی جاتی ہے لعلكم تتقون ، سوچنے والی بات ہے کہ جب رمضان میں حلال و طیب چیزیں ایک خاص وقت کے اندر ممنوع قرار دی گئی ہیں، اور ان پر بندش عائد ہوگئی، تو وہ چیزیں جو سدا سے حرام اور قیامت تک حرام رہیں گی ، وہ غیر رمضان میں کیسے جائز ہو سکتی ہیں؟
واقعہ ہے کہ مومن کے دو روزے ہیں: ایک عارضی اور ایک دائمی۔ عارضی روزہ رمضان میں ہوتا ہے، صبح صادق کے طلوع سے غروب آفتاب تک اس میں کھانا پینا اور ممنوعات صوم سب نا جائز ہوتے ہیں، دائی روزہ بلوغ سے موت تک ، اس میں خلاف شریعت کام اور ممنوعات شرعیہ سب ناجائز ہوتے ہیں: واعْبُدُرَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِيْنُ ” سورة الحجر (99) (اپنے رب کی بندگی اور تابعداری کرو جب تک موت نہ آجائے)، کیسے تعجب کی بات ہے کہ عارضی روزے کی پابندی کی جائے اور اور دائمی روزے کو کھیل بنا لیا جائے ، جس کا ایک جزء اور ایک حصہ یہ عارضی روز ہ ہے، اگر وہ روزہ نہ ہوتا تو یہ روزہ بھی نہ ہوتا، وہ روزہ صبح صادق سے شروع ہوتا ہے، یہ روزہ کلمہ پڑھ لینے اور اسلام کی حالت میں زمانہ بلوغ کے آجانے سے شروع ہوتا ہے۔ وہ روزہ آفتاب کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے، یہ روزہ بھی جب تک زندگی کا آفتاب رہتا ہے، باقی رہتا ہے۔ جہاں زندگی کا آفتاب غروب ہوا، اور طائر روح نے اپنے قفس کو چھوڑا، وہ روزہ بھی ختم ہوا۔ رمضان گزر گیا، فرض روزے بھی اس کے ساتھ گئے، مگر اسلام باقی ہے اور اس کا طویل اور مسلسل روزہ بھی باقی ہے، پہلے کی عید دوگانہ ہے، جو عید گاہ اور مسجد میں ادا ہو جاتی ہے، دوسرے کی عید و حقیقی عید ہے جس کے متعلق شاعر عارف نے کہا ہے: انبساط عید دیدن روئے تو عیدگاه ما غریباں کوئے تو
وجوه يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ إِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَة” سورة القيامة : 22-23) ( اس روز کچھ چہرے تروتازہ ہوں گے، اپنی رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے )۔
4- رمضان کا خاص تحفہ اور سوغات
رمضان مبارک کا بڑا تحفہ اور عطیہ ربانی یہ کہ یہ قرآن مجید ہے: شهرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدَى لِلنَّاسِ وَبَيِّنٰتٍ مِّنَ الٓهُدَى وَالْفُرْقَانِ ( سورة البقرة :(185) مہینہ رمضان کا ہے جس میں نازل ہوا قرآن، ہدایت ہے واسطے لوگوں کے اور دلیلیں روشن راد پانے کی اور حق کو باطل سے جدا کرنے کی)۔
رمضان تو سال بھر کے لیے رخصت ہوا۔ مگر اپنا پیام اپنا تحفہ اور اپنی سوغات چھوڑتا گیا۔ ضرورت ہے کہ رمضان گزر جانے کے بعد اس تحفہ سے اس کی یاد تازہ کی جائے، اس کی برکات حاصل کی جائے، بلکہ واقعہ ہے کہ تحفہ قاصد سے بڑھ کر ہے ۔ شاہ وقت اپنے کسی منتخب غلام کو کسی قاصد کے ہاتھ تحفہ بھیجے، تو یہ تحفہ اس کی خاص سوغات ہے۔ یہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام اور اس کی صفات کا مظہر ہے۔ اس وقت پورے عالم انسانی میں اور اس زمین کی سطح کے اوپر اللہ تعالیٰ کی ذات سے قرب رکھنے والا اور اس کی صفات و کمالات کا پر تو قرآن مجید ہی ہے۔ ضرورت ہے کہ اس کو ایک زندہ کتاب کی طرح ہمیشہ پڑھا جائے اور یقین پیدا کیا جائے کہ ہم اللہ کا کلام پڑھ رہے ہیں اور اس ذات عالی کے مخاطب اور ہم کلام ہیں۔ پڑھتے وقت ہمارا سینہ اس یقین سے معمور ہو، ہمارا اول اس احساس سے مسرور اور ہماری روح اس کیفیت سے مخمور ہو۔ حضرت ابی بن کعب نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا۔ ھَلْ سَمَّانِیْ رَبِّیْ کیا میرے مالک نے میرا نام لے کر کہا کہ ( ابی بن کعب سے ) قرآن مجید پڑھوا کر سنو؟ اور جب اس کا جواب اثبات میں ملا تو فرط مسرت سے رو پڑے۔ ہم کو بھی اس پر ناز ہونا چاہیے کہ ہمارا رب ہم سے مخاطب ہے اور ہم میں سے ہر شخص فردا فردا اس کا مخاطب اور شرف خطاب والتفات سے مشرف ہے۔ بہت سے بھائی رمضان میں بڑی مستعدی سے قرآن مجید سنتے اور پڑھتے ہیں مگر رمضان ختم ہوتے ہی اس کو طاق پر ایسا رکھتے ہیں کہ پھر رمضان ہی میں اتارتے ہیں، یہ بڑی ناقدری اور نادانی کی بات ہے۔ رمضان مبارک اس کی تقریب کرا کے رخصت ہوتا ہے، وہ اس لیے آتا ہے کہ آپ سال بھر اس کو پڑھتے رہیں، نہ اس لیے کہ سال بھر کا آپ اس میں پڑھ لیں، پھر سال بھرکے لیے چھٹی۔ اس لیے رمضان کے بعد کرنے کا چوتھا کام یہ ہے کہ ہم قرآن مجید سے اپنا تعلق باقی رکھیں اور اس کی تلاوت ، غوروتدبرجاری رہیں۔
5 شهر البر والمواساة
رمضان مبارک ہمدردی و غمخواری ، امداد واعانت اور حسن سلوک کا خاص مہینہ ہے۔ اس کو شهر البر والمواساة کہا گیا ہے۔ اس کے جانے کے بعد بھی ہمیں اس شعبہ کو زندہ رکھنا چاہیے، اور ان سب بھائیوں کی خبر لیتے رہنا چاہیے ، جو ہماری امداد واعانت اور سلوک کے محتاج ہیں۔ موجودہ بے روزگاری اور گرانی نے ان لوگوں کی تعداد بہت بڑھادی ہے جو پیسہ پیسہ کے محتاج اور دانے دانے کو ترستے ہیں، اور کسی کے سامنے دست سوال دراز نہیں کرتے :” للفقراءِ الَّذِينَ أَحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لا يستطيعون ضرباً فِي الْأَرْضِ ، يَحْسَبُهُم الْجَاھَلُ أَغْنِهَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ، تَعْرِفُهُمْ بِسِیْمَاھُمْ لَا يَسْئَلُونَ النَّاسُ اِلْحافاً، وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ، فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ (سورة البقرة: 273)-
رمضان کی تاثیر اور روزے کی قبولیت کی یہ بھی علامت ہے کہ دل میں گداز اور طبیعت میں نرمی اور ہمدردی کا جذبہ پیدا ہو اور رمضان گزر جانے کے بعد بھی خَلقِ خدا پر شفقت، غربا پر ترس، اور پریشان حال لوگوں کے ساتھ سلوک کی خواہش اور کوشش ہو۔
یہ ہیں وہ سب کام جو رمضان کے بعد بھی جاری رہنے چاہئیں اور رمضان جن کے لیے خاص طور پر تیار کر کے جاتا ہے: فَبَشِّرْ عِبَادِی الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ اللَّهُ وَأُولئِكَ هُمْ أُولُوا الْأَلْبَابِ (سورة الزمر: 17-18)
بشکریہ : تعمیر حیات 10-25 مارچ 2025




