گنگا میں افطار پارٹی : وارانسی کورٹ کا ۱۴ مسلم نوجوانوں کو ضمانت دینے سے انکار

اتر پردیش کے شہر وارانسی میں گنگا ندی پر کشتی میں افطار پارٹی کرنے اور مبینہ طور پر چکن بریانی کھانے کے الزام میں گرفتار 14 مسلم نوجوانوں کو بڑا قانونی دھچکا لگا ہے، جہاں مقامی عدالت نے پیر کے روز ان کی ضمانت درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ ملزمان کے خلاف عائد جرائم سنگین نوعیت کے ہیں اور ان میں ضمانت دینا مناسب نہیں سمجھا جا سکتا۔

ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ امت کمار یادو نے سماعت کے دوران کہا کہ مقدمہ کے حالات و واقعات کو دیکھتے ہوئے اس مرحلے پر ملزمان کو ضمانت دینے کے لیے خاطر خواہ بنیاد موجود نہیں ہے۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد تمام 14 ملزمان کو فوری راحت نہیں مل سکی اور انہیں بدستور قانونی عمل کا سامنا کرنا ہوگا۔ اس مقدمہ نے گزشتہ چند دنوں میں نہ صرف وارانسی بلکہ سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں بھی خاصی توجہ حاصل کی ہے۔

جن افراد کی ضمانت مسترد کی گئی ہے ان میں آزاد علی، عامر کیکی، دانش سیفی، محمد احمد، نہال آفریدی، محفوظ عالم، محمد انس، محمد اول، محمد تحسیم، محمد احمد عرف راجہ، محمد نور اسماعیل، محمد توصیف احمد، محمد فیضان اور محمد سمیر شامل ہیں۔ ان تمام افراد کو اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب 16 مارچ کو سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہوئی، جس میں انہیں گنگا کے بیچ کشتی پر افطار پارٹی کرتے دکھایا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق ملزمان کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ان دفعات میں عبادت گاہ یا مذہبی طور پر مقدس مقام کی بے حرمتی کر کے ایک طبقے کے مذہب کی توہین، دانستہ اور بدنیتی پر مبنی ایسے اقدامات جن سے کسی مذہبی طبقے کے جذبات مجروح ہوں، اور مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے جیسے الزامات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ عوامی خلل، عوامی پانی کے ذخیرے یا آبی ذریعہ کو آلودہ کرنے، سرکاری حکم کی خلاف ورزی اور آلودگی سے متعلق قوانین کے تحت بھی کارروائی کی گئی ہے۔

معاملہ یہیں تک محدود نہیں رہا بلکہ بعد میں پولیس نے اس کیس میں مزید سخت دفعات بھی شامل کر دیں۔ کشتی کے مالکان کی شکایت کے بعد ملزمان پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ انہوں نے زبردستی کشتی اپنے قبضے میں لی، جس کے بعد جان یا شدید نقصان کی دھمکی دے کر بھتہ خوری سے متعلق دفعات بھی مقدمہ میں جوڑ دی گئیں۔ اسی طرح انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 67 بھی شامل کی گئی ہے، جو الیکٹرانک شکل میں مبینہ طور پر فحش مواد کی اشاعت یا ترسیل سے متعلق ہے۔

اس واقعے کے پس منظر میں یہ پہلو بھی اہم ہے کہ رمضان کے دوران افطار جیسی مذہبی اور سماجی سرگرمی کو ایک متنازع صورت حال میں بدل دینے میں سوشل میڈیا نے مرکزی کردار ادا کیا۔ ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد معاملہ تیزی سے بڑھا اور پولیس نے فوری حرکت میں آتے ہوئے گرفتاریاں انجام دیں۔ بعد ازاں عائد دفعات کی نوعیت نے یہ تاثر بھی مضبوط کیا کہ انتظامیہ اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہے۔

اس کیس کے اثرات محض ان 14 افراد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یہ معاملہ آئندہ ایسے واقعات کے لیے بھی ایک مثال کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جہاں مذہبی علامتوں، عوامی مقامات اور اقلیتی طبقے کی سرگرمیوں کے درمیان تنازع پیدا ہو۔ عدالت کی جانب سے ضمانت مسترد ہونے کے بعد اب نگاہیں آئندہ قانونی کارروائی، پولیس کی تفتیش اور ممکنہ طور پر اعلیٰ عدالت سے رجوع کرنے کے امکانات پر مرکوز ہوں گی۔

فی الحال وارانسی کی عدالت کے اس فیصلے نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اس نوعیت کے حساس اور مذہبی رنگ اختیار کر جانے والے مقدمات میں ابتدائی سطح پر عدالتی راحت حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اس مقدمے کی پیش رفت آنے والے دنوں میں نہ صرف قانونی حلقوں بلکہ سماجی اور سیاسی مباحث میں بھی زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔