وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کے روز لوک سبھا میں مغربی ایشیا کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس تنازعہ کے اثرات طویل مدت تک محسوس کیے جائیں گے اور بھارت کو اس کے لیے متحد، چوکس اور پوری طرح تیار رہنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی محض علاقائی مسئلہ نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات بھارت کی توانائی، گیس، کھاد، سمندری تجارت اور بیرون ملک مقیم بھارتی شہریوں پر بھی براہ راست پڑ رہے ہیں۔
وزیر اعظم کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز پر بین الاقوامی تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کو مؤثر طور پر متاثر کیا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے اور عالمی پٹرولیم سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس رکاوٹ کے نتیجے میں بھارت میں ایل پی جی کی فراہمی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں، کیونکہ ملک اپنی مجموعی ضرورت کا تقریباً ساٹھ فیصد ایل پی جی درآمد کرتا ہے اور اس کا بڑا حصہ خلیجی ممالک سے آتا ہے۔
لوک سبھا میں خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ بھارت بڑی مقدار میں خام تیل آبنائے ہرمز کے راستے درآمد کرتا ہے، اسی لیے حکومت مسلسل کوشش کر رہی ہے کہ اس بحران کا بوجھ عام شہریوں پر کم سے کم پڑے۔ انہوں نے بتایا کہ گھریلو سطح پر ایل پی جی کی پیداوار کو ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ سپلائی کا نظام زیادہ متاثر نہ ہو۔ ان کے مطابق حکومت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور توانائی کے متبادل انتظامات کے ساتھ ساتھ ضروری اشیا کی دستیابی یقینی بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔
وزیر اعظم نے اس موقع پر ملک کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ بھارت کے پاس 53 لاکھ ٹن سے زیادہ کا اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو موجود ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک کی ریفائنری صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے، جس کے سبب حکومت کو امید ہے کہ موجودہ بحران کے باوجود تیل، گیس اور کھاد کی ضروریات کو سنبھالا جا سکے گا۔ مودی نے کہا کہ حکومت خلیجی خطے اور آبنائے ہرمز کی بدلتی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ قومی مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔
اس بحران کے اثرات زمینی سطح پر بھی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ مختلف علاقوں میں ایل پی جی کی سپلائی متاثر ہونے کے باعث گیس ایجنسیوں اور گوداموں کے باہر طویل قطاریں دیکھی جا رہی ہیں، جبکہ کئی ہوٹلوں اور کھانے پینے کے مراکز کو عارضی طور پر بند بھی کرنا پڑا ہے۔ اس صورتحال نے عوامی بے چینی میں اضافہ کیا ہے اور حکومت پر دباؤ بڑھا دیا ہے کہ وہ فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ بھارت نے کووڈ کے دور میں بھی متحد ہو کر بڑے چیلنجز کا مقابلہ کیا تھا اور اب ایک بار پھر ملک کو اسی جذبے کے ساتھ تیار رہنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں قومی یکجہتی، صبر اور منظم حکمت عملی ہی سب سے بڑی طاقت ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے اس بیان کو ایک سیاسی پیغام کے ساتھ ساتھ عوامی اعتماد بحال کرنے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ مغربی ایشیا کی صورتحال پر بھارت کی تشویش اس لیے بھی زیادہ ہے کہ خلیجی ممالک میں ایک کروڑ سے زائد بھارتی شہری رہتے اور کام کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اس خطے میں بڑی تعداد میں بھارتی ملاح اور جہازوں کے عملے سے وابستہ افراد بھی موجود ہیں، اس لیے کشیدگی کے ہر مرحلے کا براہ راست تعلق بھارتی مفادات سے جڑ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نہ صرف توانائی کے شعبے پر توجہ دے رہی ہے بلکہ بیرون ملک مقیم بھارتیوں کی حفاظت اور واپسی کے انتظامات بھی کر رہی ہے۔
وزیر اعظم کے مطابق مغربی ایشیا کے تنازعہ کے دوران اب تک تین لاکھ پچھتر ہزار سے زائد بھارتی شہری وطن واپس آ چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایران سے اب تک تقریباً ایک ہزار بھارتی محفوظ طور پر واپس لائے گئے ہیں، جن میں سات سو سے زیادہ میڈیکل طلبہ شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس بحران کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں اور یہ بھی بتاتے ہیں کہ صورتحال صرف سفارتی نہیں بلکہ انسانی پہلو سے بھی نہایت حساس ہو چکی ہے۔
یہ بیان ایک دن بعد سامنے آیا جب بھارت کی کابینہ کمیٹی برائے سلامتی نے مغربی ایشیا کی صورتحال کا جائزہ لیا اور اس کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کیا۔ اس سے واضح ہے کہ مرکزی حکومت اس معاملے کو معمول کی خارجی کشیدگی نہیں بلکہ ایک ایسے اسٹریٹجک بحران کے طور پر دیکھ رہی ہے جو آنے والے دنوں میں بھارت کی معیشت، سپلائی چین، روزمرہ زندگی اور خارجہ پالیسی پر گہرے اثرات چھوڑ سکتا ہے۔
مجموعی طور پر وزیر اعظم مودی کا بیان اس بات کا اشارہ ہے کہ بھارت اب مغربی ایشیا کی کشیدگی کو ایک عارضی مسئلہ نہیں سمجھ رہا، بلکہ اسے ایک طویل المدتی چیلنج کے طور پر لے رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ حکومت توانائی کی فراہمی، عوامی سہولت، مہنگائی پر قابو اور بیرون ملک بھارتیوں کے تحفظ کے محاذ پر کس حد تک مؤثر اور کامیاب ثابت ہوتی ہے۔
