تحریر : عتیق الرحمن ڈانگی ندوی
رفیق فکروخبر بھٹکل
صدقۂ فطر، جسے عام طور پر فطرہ کہا جاتا ہے، اسلام کی ایک اہم مالی عبادت ہے جو رمضان المبارک کے اختتام پر ادا کی جاتی ہے۔ یہ ہر اُس مسلمان پر واجب ہوتا ہے جس کے پاس عید کے دن اور رات کی بنیادی ضروریات سے زائد مال موجود ہو۔ ایسا شخص اپنی اور اپنے بلکہ اپنے زیرِ کفالت افراد، جیسے بیوی اور بچوں کی طرف سے بھی صدقۂ فطر ادا کرتا ہے۔ اس طرح یہ عبادت انسان کو اپنی ذات کے ساتھ اپنے اہلِ خانہ کی ذمہ داریوں کا بھی احساس دلاتی ہے، اور اسی وجہ سے یہ انفرادی ہونے کے ساتھ ساتھ خاندانی اور اجتماعی رنگ بھی اختیار کر لیتی ہے۔
یہ عبادت محض ایک رسمی عمل نہیں بلکہ اپنے اندر گہری حکمتیں سموئے ہوئے ہے۔ اسلام نے خوشی کے مواقع کو کبھی چند افراد تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے پورے معاشرے کو اس میں شریک کیا ہے۔ عید الفطر، جو رمضان المبارک کی تکمیل پر خوشی کا اظہار ہے، درحقیقت اسی اجتماعی خوشی کا مظہر ہے۔ ایسے میں یہ بات کس قدر ناگوار ہوگی کہ ایک طرف کچھ لوگ عید کی خوشیوں میں مصروف ہوں اور دوسری طرف معاشرے کے کمزور طبقات بنیادی ضروریات سے محروم ہوں۔ صدقۂ فطر اسی خلا کو پُر کرتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ خوشی سب تک پہنچے۔
عن ابن عباس رضی للہ عنہما قال : فرض رسولُ اللَّہ صلی اللَّہ علیہ وسلم زکاۃَ الفِطرِ طُھرَۃً لِلصَّائمِ مِن اللَّغوِ و الرَّفَثِ ، و طُعمَۃً للمساکینِ فَمَن ادَّاھَا قَبلَ الصَّلاۃِ فَھي زکاۃٌ مقبولۃٌ ، وَ مَن ادَّاھَا بعدَ الصَّلاۃِ فَھي صدقۃٌ مِن الصَّدقاتِ (سنن أبوداؤد : 1609)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقۂ فطر کی دو بنیادی حکمتیں بیان فرمائی ہیں کہ یہ روزہ دار کے لیے لغو اور بے ہودہ باتوں سے پاکیزگی کا ذریعہ ہے اور مساکین کے لیے خوراک کا انتظام ہے۔ رمضان کے مہینے میں اگرچہ انسان عبادت، ذکر اور تقویٰ کی طرف متوجہ رہتا ہے، مگر بشری کمزوریوں کے باعث بعض لغزشیں سرزد ہو ہی جاتی ہیں۔ صدقۂ فطر ان کوتاہیوں کی تلافی کا ذریعہ بنتا ہے اور روزے کو ایک طرح سے کمال تک پہنچاتا ہے۔ دوسری طرف یہ معاشرے کے غریب افراد کے لیے عید کے دن کی بنیادی ضروریات فراہم کرتا ہے تاکہ وہ بھی اس خوشی میں برابر کے شریک ہو سکیں۔
"عن ابن عمر قال: فرض رسول الله صلى الله عليه و سلم زكاة الفطر صاعًا من تمر أو صاعًا من شعير على العبد و الحرّ و الذكر و الأنثى و الصغير و الكبير من المسلمين و أمر بها أن تؤدى قبل خروج الناس إلى الصلاة”. (صحيح البخاري : 1503)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فطر کی زکوٰۃ (صدقہ فطر) ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو فرض قرار دی تھی۔ غلام ‘ آزاد ‘ مرد ‘ عورت ‘ چھوٹے اور بڑے تمام مسلمانوں پر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم یہ تھا کہ نماز (عید) کے لیے جانے سے پہلے یہ صدقہ ادا کر دیا جائے۔
مسلکِ شافعی کے مطابق صدقۂ فطر کی مقدار ایک صاع ہے، جسے موجودہ زمانے میں تقریباً دو سے ڈھائی کلوگرام کے درمیان سمجھا جاتا ہے۔ اس بارے میں علماء کے درمیان معمولی اختلاف پایا جاتا ہے؛ بھٹکل کے سابق قاضی اور فقہ شافعی کے ممتاز عالم مولانا محمد اقبال ملا ندوی رحمہ اللہ نے تقریباً دو کلو ایک سو گرام کو اختیار کیا ہے، جبکہ بعض دیگر معتبر کتب جیسے “الفقہ المنہجی” میں اس کی مقدار دو کلو چار سو گرام تک بھی بیان کی گئی ہے۔
شافعی مسلک میں اس بات کو خاص اہمیت دی گئی ہے کہ صدقۂ فطر علاقے کے رائج کھانے کی صورت میں ادا کیا جائے۔ یعنی جس شہر یا علاقے میں جو غذا عام طور پر استعمال ہوتی ہو، وہی فطرہ میں دی جائے۔ مثال کے طور پر اگر کسی علاقے میں چاول بنیادی غذا ہے تو چاول ہی دینا افضل ہوگا۔ بعض متأخرین علماء نے ضرورت کے تحت قیمت ادا کرنے کی اجازت بھی دی ہے، مگر شوافع کے نزدیک اصل اور بہتر طریقہ یہی ہے کہ اجناس کی صورت میں ادا کیا جائے تاکہ مستحقین کو فوری فائدہ حاصل ہو سکے۔
وقت کے اعتبار سے صدقۂ فطر رمضان کے آغاز سے بھی ادا کیا جا سکتا ہے لیکن اس کا وجوب عید کا چاند نظر آنے کے بعد ہوتا ہے نمازِ عید سے پہلے ادا کرنا ضروری ہے ورنہ صدقہ فطر ادا نہیں ہوگا۔
صدقۂ فطر کے مصارف وہی ہیں جو زکوٰۃ کے ہیں، یعنی فقراء اور مساکین وغیرہ۔ اسی پس منظر میں بھٹکل میں گزشتہ کئی دہائیوں سے صدقۂ فطر کی اجتماعی تقسیم کا ایک خوبصورت اور منظم نظام رائج ہے، جو قابلِ تقلید مثال پیش کرتا ہے۔ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں نوجوان اور سماجی کارکنان مختلف علاقوں میں مستحقین کی فہرستیں تیار کرتے ہیں، اور عید کی رات ان کے گھروں تک راشن پہنچایا جاتا ہے۔ اس عمل میں خاص طور پر ان افراد کا خیال رکھا جاتا ہے جو واقعی مستحق ہونے کے باوجود اپنی خودداری کی وجہ سے مدد لینے کے لیے آگے نہیں آتے۔ ایسے لوگوں تک نہایت خاموشی اور وقار کے ساتھ صدقۂ فطر پہنچایا جاتا ہے، یہاں تک کہ کسی کو اس کی خبر بھی نہیں ہوتی۔ یہی وہ اسلامی اخلاق ہے جو اس عبادت کو محض مالی ادائیگی سے بلند کر کے ایک اعلیٰ انسانی قدر میں تبدیل کر دیتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ صدقۂ فطر اسلام کے اس جامع نظام کا ایک اہم حصہ ہے جس میں عبادت، اخلاق اور معاشرت تینوں پہلو یکجا ہو جاتے ہیں۔ یہ عبادت روزوں کی تکمیل کے ساتھ انسان کے اندر ہمدردی، ایثار اور بھائی چارے کے جذبات کو بھی فروغ دیتی ہے۔ آج کے دور میں جب معاشی ناہمواری بڑھتی جا رہی ہے، صدقۂ فطر کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے، کیونکہ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایک حقیقی اسلامی معاشرہ وہی ہے جس میں ہر فرد کی بنیادی ضروریات کا خیال رکھا جائے۔
لہٰذا ہر صاحبِ استطاعت مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ صدقۂ فطر کو اس کی حقیقی روح کے ساتھ ادا کرے، وقت کی پابندی کا لحاظ رکھے اور مستحقین تک اسے بہترین انداز میں پہنچانے کی کوشش کرے۔ یہی وہ طرزِ عمل ہے جو رمضان المبارک کی برکتوں کو مکمل کرتا اور عید الفطر کی خوشیوں کو حقیقی معنوں میں عام کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس فریضے کو صحیح طریقے سے ادا کرنے اور اس کی حکمتوں کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
