ایران کے جوہری ذخیرے پر امریکہ اور اسرائیل کی نظریں ، اسپیشل فورسز تعیناتی زیر غور : رپورٹ

امریکی خبر رساں ادارے Axios کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل ایران کے جوہری مواد کے ذخیرے کو قبضے میں لینے کے لیے اسپیشل فورسز تعینات کرنے کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں معاملے سے واقف چار ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اس منصوبے کے تحت ایران کے پاس موجود تقریباً 450 کلوگرام 60 فیصد افزودہ یورینیم کو ضبط کرنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مقصد کا اہم حصہ ہو سکتا ہے جس کے تحت ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔

Axios کے مطابق ایسی کارروائی ممکنہ طور پر جنگ کے بعد کے کسی مرحلے میں کی جا سکتی ہے، جب امریکہ اور اسرائیل یہ سمجھیں کہ ایران کی فوج مؤثر دفاع کی صلاحیت کھو چکی ہے۔

دوسری جانب ایران کے جوہری ذخیرے کی موجودہ صورتحال واضح نہیں ہے۔ گزشتہ سال جون میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے کئی جوہری مراکز اور بنیادی ڈھانچے پر حملے کیے تھے۔

ادھر انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کا کہنا ہے کہ ایران نے حملوں کے بعد ان بمباری شدہ مقامات تک ادارے کو رسائی نہیں دی۔ تاہم ایجنسی کے انسپکٹرز کو اب تک ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار بنانے کے کسی مربوط پروگرام کے شواہد نہیں ملے۔