بحرین کے وزیر داخلہ کے مطابق ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں ملک کے ایک واٹر ڈیسالینیشن پلانٹ کو مادی نقصان پہنچا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم تنصیب کے کچھ حصے متاثر ہوئے ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اس کے مخالفین کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
ادھر ایران نے اس معاملے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں آبی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی ابتدا امریکہ اور اسرائیل نے کی۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق امریکی حملے میں جنوبی ایران کے جزیرے قشم میں واقع ایک میٹھے پانی کے ڈیسالینیشن پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا، جس سے پانی کی فراہمی کا نظام متاثر ہوا۔
ایران کا کہنا ہے کہ شہری ضروریات سے متعلق بنیادی تنصیبات، خصوصاً پانی کی فراہمی کے مراکز کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین اور جنگی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اسے جنگی جرم تصور کیا جاتا ہے۔ تہران کے مطابق اس حملے نے خطے میں ایک خطرناک مثال قائم کی ہے۔
ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک کی بڑی آبادی اپنی پانی کی ضروریات کے لیے سمندر کے پانی کو صاف کر کے حاصل کیے جانے والے پانی پر انحصار کرتی ہے، اس لیے ایسی تنصیبات پر حملہ پورے خطے کے لیے حساس مسئلہ بن سکتا ہے۔
