مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ ایران نے اپنے خلیجی ہمسایہ ممالک پر میزائل اور ڈرون حملوں کی نئی لہریں داغ دی ہیں، حالانکہ اس سے قبل تہران نے ہمسایہ ممالک پر حملے نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق ہفتہ کے روز قطر، سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات میں ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ایران کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایجئی نے واضح کیا ہے کہ تہران خطے میں ان مقامات کو نشانہ بناتا رہے گا جو ایران کے خلاف جارحیت کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی مسلح افواج کے شواہد بتاتے ہیں کہ خطے کے بعض ممالک کی سرزمین کھلے یا خفیہ طور پر ایران کے دشمنوں کے استعمال میں دی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اور ریاستی ادارے اس بات پر متفق ہیں کہ ان اہداف پر بھاری حملے جاری رہیں گے۔
اس سے قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خلیجی ممالک پر حملوں پر معذرت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران تحمل کا مظاہرہ کرے گا، بشرطیکہ ان ممالک کی سرزمین ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہ ہو۔ تاہم بعد ازاں انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وضاحت کی کہ خطے میں وہ تمام تنصیبات جو ایران کے خلاف کارروائی کے لیے استعمال ہوں گی، ایران کے دفاعی آپریشنز کے لیے جائز ہدف تصور کی جائیں گی۔
دوسری جانب خلیجی ممالک نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی حملے کے لیے استعمال نہیں کی گئی۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے بھی ان ممالک نے واضح کیا تھا کہ وہ اپنے علاقے کو کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔
ادھر ایران کے پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ جب تک خطے میں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں، مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ ان کے مطابق اس مؤقف پر ایرانی قیادت اور عوام مکمل طور پر متحد ہیں۔
