بنگلورو: گرمی کے عروج سے قبل ہی بنگلورو اور کرناٹک کے مختلف علاقوں میں مارچ کے پہلے ہفتے میں غیر معمولی موسمی حالات دیکھنے میں آئے ہیں۔ شہر میں درجہ حرارت 32 سے 33 ڈگری سیلسیس کے درمیان ریکارڈ کیا گیا، جبکہ شمالی اندرونی کرناٹک کے بعض حصوں میں پارہ 40 ڈگری سیلسیس کے قریب پہنچ گیا۔ محکمہ موسمیات ہند (آئی ایم ڈی) نے ریاست بھر میں ممکنہ ہیٹ ویو کے حالات سے خبردار کیا ہے۔
ماہرین موسمیات اور صحت کے ماہرین کو سب سے زیادہ تشویش الٹرا وائلٹ (UV) تابکاری کی سطح میں اچانک اضافے پر ہے۔ منگل کے روز بنگلورو میں درجہ حرارت نسبتاً 32 ڈگری سیلسیس رہا، تاہم دوپہر کے وقت یو وی انڈیکس 13 تک جا پہنچا، جسے عالمی ادارہ صحت کے معیارات کے مطابق “انتہائی” درجے میں شمار کیا جاتا ہے۔
اس کے برعکس کلبرگی میں ریاست کا سب سے زیادہ درجہ حرارت 38.2 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، مگر وہاں یو وی انڈیکس 10 رہا، جسے “بہت زیادہ” قرار دیا گیا ہے۔ آئی ایم ڈی بنگلورو کے ذرائع کے مطابق اگرچہ درجہ حرارت ابتدائی موسم گرما کی معمول کی حد 34 ڈگری سیلسیس سے نیچے ہے، لیکن دو دن سے بھی کم عرصے میں یو وی انڈیکس کا 10 سے بڑھ کر 13 تک پہنچ جانا تشویش ناک ہے۔
محکمہ موسمیات کے ایک عہدیدار نے خبردار کیا کہ 8 سے زیادہ یو وی انڈیکس صحت کے لیے نقصان دہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ موجودہ سطح پر طویل وقت تک دھوپ میں رہنے سے سن برن، جلد کی قبل از وقت بڑھاپا، آنکھوں کو نقصان اور طویل مدت میں جلد کے سرطان کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ سکتا ہے۔ آئی ایم ڈی بنگلورو کے سائنس دان سی ایس پاٹل کے مطابق یو وی کی شدت کا انحصار بڑی حد تک اوزون کی تہہ کی موٹائی پر ہوتا ہے، جو زمین کو مضر شعاعوں سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔
ماہرین صحت نے متنبہ کیا ہے کہ شدید گرمی اور انتہائی یو وی شعاعوں کا امتزاج پانی کی کمی، گرمی کی تھکن اور ہیٹ اسٹروک کے خطرات میں اضافہ کرسکتا ہے، خاص طور پر ٹریفک پولیس اہلکاروں، سڑک کنارے دکانداروں اور تعمیراتی مزدوروں جیسے بیرونی کارکنوں کے لیے۔ بچے اور معمر افراد بھی اس حوالے سے زیادہ حساس قرار دیے گئے ہیں۔
بنگلورو اور منگلورو جیسے شہری مراکز میں شیشے کی عمارتوں، وسیع کنکریٹ سطحوں اور کم ہوتے درختوں کے باعث گرمی اور شعاعوں کا اثر مزید شدت اختیار کرسکتا ہے۔ ایک معروف اسپتال سے وابستہ ماہر امراض جلد کے مطابق بڑھتی ہوئی یو وی سطح صحت عامہ کے نظام پر دباؤ بڑھا سکتی ہے کیونکہ گرمی سے متعلق امراض، جلدی الرجی اور آنکھوں کی جلن کے کیسز میں اضافہ متوقع ہے۔
محکمہ صحت و خاندانی بہبود کے سینئر عہدیداروں نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت دی ہے، جن میں پورے بازو والے سوتی کپڑے پہننا، چوڑی کنارے والی ٹوپی کا استعمال، یو وی محفوظ چشمہ لگانا اور زیادہ ایس پی ایف والا سن اسکرین استعمال کرنا شامل ہے۔ اسکولوں کو بیرونی سرگرمیوں کے اوقات میں تبدیلی پر غور کرنے جبکہ اداروں کو دوپہر کے اوقات میں کام کے شیڈول میں ردوبدل کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو شدید دھوپ سے بچایا جاسکے۔
