سنبھل جامع مسجد تنازعہ: اے ایس آئی کا دوٹوک مؤقف، قدیم ڈھانچہ گرا کر تعمیر کا کوئی سرکاری ریکارڈ موجود نہیں

سنبھل : اتر پردیش کے شہر سنبھل میں واقع جامع مسجد سے متعلق جاری تاریخی اور قانونی تنازعہ کے درمیان آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) نے اپنا واضح مؤقف پیش کر دیا ہے۔ حقِ اطلاعات (آر ٹی آئی) کے تحت طلب کی گئی معلومات کے جواب میں اے ایس آئی نے کہا ہے کہ اس کے دستیاب سرکاری ریکارڈ میں ایسا کوئی اندراج موجود نہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ مسجد کسی قدیم مندر یا دیگر ڈھانچے کو منہدم کر کے تعمیر کی گئی تھی یا خالی زمین پر اس کی بنیاد رکھی گئی تھی۔

یہ معاملہ سنٹرل انفارمیشن کمیشن (مرکزی اطلاعاتی کمیشن) تک پہنچا، جہاں اپیل کی سماعت کے دوران یہ حقیقت سامنے آئی۔ کمیشن نے اے ایس آئی کے جواب کو قانون کے مطابق قرار دیتے ہوئے اپیل مسترد کر دی۔

درخواست گزار ستیہ پرکاش یادو نے اپنی درخواست میں استفسار کیا تھا کہ مغل دور کی جامع مسجد کن حالات میں تعمیر کی گئی؟ کیا یہ کسی قدیم مندر یا دیگر عمارت کو گرا کر بنائی گئی یا یہ خالی زمین پر تعمیر ہوئی؟ اس کے علاوہ اُس وقت زمین کے اصل مالک کا نام، ملکیت سے متعلق دستاویزات اور تعمیر کے دورانیے سے متعلق ثبوت بھی طلب کیے گئے تھے۔

اے ایس آئی نے جواب دیا کہ اس کے ریکارڈ میں تعمیر سے قبل کی صورتِ حال کے بارے میں کوئی تفصیلی معلومات درج نہیں ہیں۔ البتہ دستیاب دستاویزات کے مطابق مسجد کی تعمیر سن 1526 میں ہوئی تھی۔ اے ایس آئی نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ عمارت اس کے ریکارڈ میں ابتدا سے “جامع مسجد” ہی کے نام سے محفوظ ہے اور کسی اور نام سے اس کا کوئی اندراج موجود نہیں۔

محکمے کے مطابق 1920 میں اس عمارت کو باضابطہ طور پر تحفظ کے دائرے میں لیا گیا تھا اور تب سے یہ اے ایس آئی کی نگرانی میں ہے۔ موجودہ وقت میں بھی یہ ایک فعال مسجد ہے اور مقامی برادری یہاں عبادات انجام دیتی ہے۔

مرکزی اطلاعاتی کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ حقِ اطلاعات قانون کے تحت کسی بھی سرکاری ادارے کی ذمہ داری صرف وہی معلومات فراہم کرنا ہے جو اس کے پاس پہلے سے موجود ہوں۔ کسی ادارے کو نئی تحقیق کرنے یا تاریخی نتیجہ اخذ کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ چونکہ اے ایس آئی نے اپنے دستیاب تمام ریکارڈ درخواست گزار کو فراہم کر دیے تھے، اس لیے اپیل کو خارج کر دیا گیا۔

سنبھل کی جامع مسجد حالیہ عرصے میں مختلف دعوؤں اور عدالتی عرضیوں کی وجہ سے موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔ ایک درخواست میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مسجد قدیم مندر کی جگہ تعمیر کی گئی تھی، جس کے باعث مقامی سطح پر کشیدگی بھی دیکھنے میں آئی۔