آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کی گئی مشترکہ اور کھلی جارحیت کی سخت اور دوٹوک الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ بورڈ اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کرے اور خطے کو تباہ کن جنگ سے بچائے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے اپنے پریس بیان میں کہا کہ ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے سلسلے میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہو چکی تھی۔ ان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کے مطابق ایران امریکہ کی تقریباً تمام شرائط تسلیم کرنے پر آمادہ ہو چکا تھا۔ اس کے باوجود امریکہ کی جانب سے اچانک مذاکرات ختم کرنے کا اعلان اور فوراً بعد اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مذاکرات محض ایک حربہ تھے، سنجیدہ سفارتی عمل نہیں۔
ڈاکٹر الیاس نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملتِ اسلامیہ کے لیے عظیم سانحہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی خود مختار ملک کی مرکزی قیادت کو دورانِ جنگ نشانہ بنانا اور قیادت کی تبدیلی کی کھلی بات کرنا بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس جنگ نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو عدم استحکام کی آگ میں جھونک دیا ہے۔ ایک طرف متعدد یورپی ممالک امریکہ کی حمایت میں کھڑے ہیں، تو دوسری جانب روس اور چین ایران کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ اگر فوری اور مؤثر سفارتی مداخلت نہ کی گئی تو یہ تصادم وسیع عالمی جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ طویل جنگ نہ صرف انسانی المیے کو گہرا کرے گی بلکہ عالمی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچائے گی، جس کا سب سے زیادہ بوجھ ترقی پذیر اور کمزور ممالک کو اٹھانا پڑے گا۔
ڈاکٹر الیاس نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے نازک اور فیصلہ کن مرحلے پر ہمارا ملک ایک متوازن اور باوقار ثالثی کردار ادا کر سکتا تھا، مگر موجودہ طرزِ عمل سے ملک کی خارجہ پالیسی کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر سرکاری سطح پر تعزیت کا اظہار نہ کیا جانا ہماری اخلاقی اور سفارتی روایت کے منافی ہے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ایک بار پھر ملک کے حکمرانوں، اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے اپیل کرتا ہے کہ وہ فوری، سنجیدہ اور عملی اقدامات کے ذریعے اس جنگ کو روکے۔ بصورتِ دیگر یہ آگ کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہے گی اور پوری دنیا اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گی۔
