بچوں کی آن لائن حفاظت پر سوالات ، نیو میکسیکو کا میٹا کے خلاف مقدمہ دائر

نیو میکسیکو: امریکی ریاست نیو میکسیکو نے میٹا کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ کمپنی فیس بک اور انسٹاگرام پر بچوں کو آن لائن شکاریوں سے محفوظ رکھنے میں ناکام رہی۔ ریاست کے محکمۂ انصاف کے مطابق خفیہ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ میٹا نے حفاظتی اقدامات مؤثر انداز میں نافذ نہیں کیے اور اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت سے متعلق گمراہ کن بیانات دیے۔

سی این بی سی کی رپورٹ کے مطابق اس مقدمے میں میٹا کے ساتھ ایپل کو بھی بچوں کی حفاظت اور رازداری سے متعلق سخت سوالات کا سامنا ہے۔ مختلف ریاستوں میں جاری قانونی کارروائیوں کے دوران میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ اور ایپل کے سی ای او ٹم کک پر رازداری، اظہارِ رائے کی آزادی اور صارفین کے تحفظ جیسے معاملات پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔

عدالتی دستاویزات میں انکشاف کیا گیا کہ میٹا کے اندرونی پیغامات میں ہر سال لاکھوں بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق رپورٹس پر تشویش ظاہر کی جاتی رہی۔ ملازمین کو خدشہ تھا کہ فیس بک میسنجر میں ڈیفالٹ اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے نفاذ کے بعد ایسے معاملات کی نشاندہی اور رپورٹنگ مشکل ہوجائے گی۔ ایک اندرونی پیغام میں کہا گیا کہ انکرپشن کے بعد سیکیورٹی سسٹمز ممکنہ نقصانات کو پہلے کی طرح تلاش نہیں کر سکیں گے۔

ریاست کے اٹارنی جنرل کا الزام ہے کہ میٹا جانتی تھی کہ مکمل انکرپشن سے بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد کی شناخت اور رپورٹنگ متاثر ہوگی، اس کے باوجود کمپنی نے حفاظتی اقدامات کو ناکافی چھوڑا۔ دوسری جانب ویسٹ ورجینیا نے بھی ایپل کے خلاف بچوں کے جنسی استحصال کے مواد سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر مقدمہ دائر کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر عدالتوں نے کمپنیوں کو ذمہ دار قرار دیا تو اربوں صارفین کو متاثر کرنے والی مصنوعات اور فیچرز میں بڑی تبدیلیوں کا حکم دیا جا سکتا ہے۔ رازداری کے حامی جہاں انکرپشن کو صارفین کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں، وہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مؤقف ہے کہ اس سے بعض جرائم کی تحقیقات پیچیدہ ہو جاتی ہیں۔