ایپسٹین فائل یا ہماری فائل؟

از : جاوید ائیکری

بچپن کی یادوں کو کھریدوں تو امی کی کچھ باتیں پتھر کی لکیر طرح یاد ہے” اللہ تعالٰی روز قیامت بندوں کے اعمال کو ٹی وی پر دکھائے گا اور بندہ انکار ہی نہیں کرسکے گا” یہ اس زمانے میں مثالی مقولہ تھا، لیکن حقیقتا اللہ کو ہر چیز کا علم ہے۔ نادان ہونے کے ناطے بہت سے سوالات دل میں آتے اور کبھی آسمان کی طرف معصومیت سے دیکھتا بھلا یہ بھی ریکارڈ ہو رہا ہے۔

حالیہ دنوں دنیا "ایپسٹین فائل” کے موضوع کو لے کر کافی جوش وخروش دکھا دے رہی ہے ہر کوئی ان گنہگاروں کے کرتوتوں، ویڈیوز، فوٹوز اور ایمیل کو دیکھ کر خود کو پاکدامن اور ان لیڈروں کو دنیا کے بدترین قرار دے رہا ہے۔ کیونکہ اپنی دولت، شہرت اور حکومتی سطح کے واسطوں سے بدترین گناہ میں ملوث تھے۔ ایلون مسک جیسے جدید ٹیکنالوجی کا ماہر، کچھ مہینوں پہلے حالیہ امریکی صدر کو نشانہ بناکر بم پھوڑنے کی بار بار بات کررہا تھا لیکن وہ خود ایپسٹین سے بارہا مل چکا تھا، اور اسے خود یاد نہ تھا کہ سالوں پہلے اسکی ملاقاتیں بھی اسی فائل میں محفوظ ہے۔

جیفری ایپسٹین اک موساد ایجینٹ تھا، یا اسکی موت ڈرامائی تھی، یا دنیا کے لیڈروں کو نابالغ بچیاں زنا کیلئے پیش کرتا تھا اور انکی خفیہ ویڈیوز اسرائیلی حکومتی پروجیکٹس مکمل کروانے کیلئے بلیک میل کرتا تھا، یا معصوم بچوں کو خوفناک انداز سے مار کر انکا خون اینٹی ایجنگ کے لئے استعمال کرتا تھا، یا اک عرب عورت کا اس کے ساتھ زنا کرنا، پھر اپنی کمسن بہن کو پیش کرنا، یا اک متمول عرب کا غلاف کعبہ اس زانی کو پیش کرنا میرا موضوع قلم نہیں ہے، ان سب کا حساب آج نہیں تو روز قیامت ہونا طئے ہے۔

میرا موضوع،  ڈر، فکر ، حیرت، پریشانی ہے کہ کہیں ایپسٹین فائل کی طرح میری اور آپکی فائل نہ کھلے۔ دنیا کا ہر انسان ہوش سنبھالنے سے موت تک اگرچہ ایمان باللہ رکھتا ہو گناہ کا مرتکب ہوتا ہے، کبھی ارادتا ، کبھی غیر ارادی طور پر، کبھی جان بوجھ کر اور کبھی نادانی میں، انبیاء کے سواء شاید ہی کوئی محفوظ ہو، ایپسٹین فائل میں سالوں پہلے کے واقعات ایمیلز، فوٹوز اور ویڈیوز کی محفوظ فائلز ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے، اگر انسان کے بنائے سسٹم میں اتنی باریکی سے چیزیں محفوظ ہوسکتی ہے تو اللہ کے بنائے سسٹم کی فائل کیونکر محفوظ نہ ہوگی۔

ہم جنہیں کراما کاتبین کہتے ہیں،  ہم میں سے ہر ایک کی فائل لکھی جارہی ہے اور یہی فائل روز قیامت "اقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَىٰ بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا، پڑھ اپنی کتاب، آج تو خود اپنا حساب لگانے کیلئے کافی ہے) کی شکل میں پیش کی جائے گی۔ اس فائل کے گواہ کراما کاتبین کے علاوہ ہم اور ہمارے اعضاء خود ہونگے، نہ صرف آپ بلکہ آپکی زبان، ہاتھ، پیر گواہی دیں گے يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ أَلْسِنَتُهُمْ وَأَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ،  اور سب سے بڑا گواہ "اولم يكف بربك أنه على كل شيء شهيد” کیا تمہارے رب کافی نہیں وہ ہر چیز پر گواہ ہے۔ اس فائل کے جھوٹی ہونے یا انکار کی گنجائش نہیں ہوگی۔ انسان کے بنائے سسٹم میں غلطی اور جھوٹ ممکن ہے، لیکن اللہ کا بنایا سسٹم اتنا Perfect ہے ،نہ غلطی کا سوال اور نہ جھوٹ کا اندیشہ۔ ایپسٹین فائل 35 لاکھ صفحات پر مشتمل اسکی زندگی کا ایک حصہ ہے، اسکے بچپن، اسکول، کالج، تنہائی، مکروفریب اور نہ جانے کیا کچھ ان 35 لاکھ صفحات کے علاوہ ہے۔  یہ ماسٹر فائل کراما کاتبین کی لکھی ہے جو نہ جانے کتنے لاکھ  یا کروڑوں صفحات پر مشتمل ہوگی، اور یہی معاملہ میرا اور آپکا ہے۔ اور اس فائل کو ہر انسان بوجھ کے طور پر اٹھاتا ہے۔ اگرچہ اس بڑی فائل کو بالکل چھوٹا کرکے ہمارے جسم میں بھی محفوظ رکھا جاتا ہے۔ اسکی مثال یوں سمجھو، آپکو Zip file کا اندازہ ہوگا، سینکڑوں فائلز کو اسکے حجم سے چھوٹا کرتے اک جگہ جمع کرتی ہے، جو کمپیوٹر یا سرور کے ڈسک اسپیس کو کم کرتی ہے، پورا ڈاٹا چھوٹی چپ / فائل میں جمع ہوجاتا ہے، اسی طرح ہمارے اچھائیوں اور برائیوں کی فائل بھی ہمارے اپنے بدن پر zip file کرکے محفوظ کی جاتی ہے، ہمیں جب زکام سردی ہوتی ہے، تو کبھی کبھار  ناک سے پانی، سردی، بلغم کئی کئی دنوں تک نکلتا ہے، جتنا باہر نکلے اس سے زیادہ اندر جمع ہوا محسوس ہوتا ہے، بالکل zip file  طرح جسم میں موجود اور انسان سوچتا ہے آخر اتنا سارا بلغم اندر جمع کیسے ہوا۔  دوسری بات ہماری عمر کے زاویہ سے ۔ عام زبان میں بچپن ، جوانی، ادھیڑ عمر اور بڑھاپا کہتے ہیں ۔ آخر الذکر کو ہم کمزوری سے تعبیر کرتے ہوئے bad bacteria کا جسم میں زیادہ ہونا یا عمر کے بڑھنے کا نام دیتے ہیں ، انسان خود کو اپنے آپ پر بوجھ سمجھتا ہے، آنکھ اندر گھسی ہوئی، کھال موٹی، کان نیچے کو جھکے، چہرے پر جھریاں، کندھا بوجھل، پیٹھ تیڑھی، پیر گھسے، کسی کی زبان لڑکھڑائی، ان سب کو ہم   ageing کا نام دیتے ہیں، لیکن اصل میں ہر انسان کا اپنے اعمال کے بوجھ کو اٹھانا بھی ہوسکتا ہے بچپن سے بڑھاپے تک اپنی فائل، گناہوں کے ریکارڈ کا ہمارے جسم پر Reserve وہ بوجھ جو اب اٹھایا نہیں جارہا۔ اور اس کی دلیل (وما كنتم تسترون أن يشهد عليكم سمعكم ولا أبصاركم ولا جلودكم، ) اور تم اس بات کے خوف سے پردہ نہیں کرتے تھے، کہ تمہارے کان، آنکھیں اور کھالیں تمہارے خلاف گواہی دیں گے ) عمومی طور پر گواہی وہی دیتا ہے جس نے باریکی سے دیکھا ہو، بخوبی حالات سے واقفیت رکھتا ہو اور اس کے پاس وہ عمل محفوظ ہو۔ ہماری فائل اتنی Accurate اور Perfect ہوگی، جس سے انسان رتی برابر نیکی ہو یا برائی اس فائل میں ضرور پائے گا۔ اور انسان تعجب سے خود اس فائل کے سچائی کی گواہی اس طرح دے گا (یا ویلتنا مال هذا الكتاب لا يغادر صغيرة ولا كبيرة إلا أحصاها، ووجدوا ما عملوا حاضرا-  ہائے رے میری  شامت ! یہ کیسا اعمال نامہ ہے، اس نے نہ کسی چھوٹی چیز کو چھوڑا ہے اور نہ کسی بڑی کو مگر اس کو محفوظ کر رکھا ہے۔ جو کچھ کیا تھا حاضر پائیں گے)۔ ایپسٹین فائل سے زیادہ مجھے اور آپکو اپنے فائل کی فکر کرنی چاہیے، اسی لئے آج وقت ہے تنہائی میں بیٹھ کر اپنی فائل کا محاسبہ کرنے، اپنے گناہوں کو یاد کرکے اللہ سے اس فائل کے حاشیہ میں اپنی شرمندگی اور دوبارہ نہ کرنے کا وعدہ کرکے معافی مانگ لینا کا، ورنہ جب سانسیں رک جائے گی، نیکیوں کا پلڑا ہلکا، گناہوں کا وزنی ہوگیا تو (رب ارجعون، لعلي أعمل صالحا ) میرے رب دنیا واپس بھیج، اچھے اعمال کرلو ) کی پکار کا کچھ حاصل نہیں۔