اسدالدین اویسی نے ہیمنت بسوا سرما کے خلاف پولس میں کی شکایت ،مجرمانہ کارروائی کا مطالبہ

حیدرآباد: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اور حیدرآباد سے رکن پارلیمان اسدالدین اویسی نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کے خلاف مجرمانہ کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے حیدرآباد کے پولیس کمشنر کو باضابطہ شکایت پیش کی ہے۔ یہ شکایت متنازع اور بعد ازاں حذف کی گئی ویڈیو کے سلسلے میں کی گئی ہے، جس میں وزیر اعلیٰ کو مسلمانوں پر گولی چلاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

پولیس کمشنر کے نام اپنے مکتوب میں اویسی نے الزام عائد کیا کہ ہیمنت بسوا سرما گزشتہ کئی برسوں سے سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا، عوامی خطابات اور دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعے مسلم برادری کے خلاف بیانات دیتے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے متعدد بیانات اب بھی عوامی دائرے میں موجود ہیں اور حالیہ مہینوں میں ان کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔

اویسی کے مطابق وزیر اعلیٰ کے بیانات کا مقصد مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا اور ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت کو فروغ دینا ہے، جو قومی یکجہتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ہے۔

انہوں نے اپنے خط میں سپریم کورٹ کے فیصلے، شاہین عبداللہ بنام یونین آف انڈیا و دیگر، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے واضح کیا ہے کہ بنیادی حقوق کا تحفظ اور آئینی اقدار کی پاسداری ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدالت نے یہ بھی ہدایت دی ہے کہ نفرت انگیز تقاریر کے معاملات میں پولیس کو باضابطہ شکایت کا انتظار کیے بغیر ازخود کارروائی کرنی چاہیے اور کسی بھی قسم کی غفلت کو سنگین لاپروائی تصور کیا جائے گا۔ اویسی نے مزید کہا کہ 7 فروری کو بھارتیہ جنتا پارٹی آسام کے سرکاری اکاؤنٹ سے بھی اس ویڈیو کو جاری کیا گیا، جسے اگلے دن ہٹا دیا گیا، تاہم وہ اب بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔

اویسی کے مطابق اس ویڈیو میں ہیمنت بسوا سرما کو اسلحہ کے ساتھ دکھایا گیا ہے اور وہ ان افراد کو نشانہ بناتے نظر آتے ہیں جنہیں مسلمان کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ویڈیو میں استعمال کیے گئے مناظر اور جملے، جیسے ’پوائنٹ بلینک شاٹ‘ اور ’کوئی رحم نہیں‘، دانستہ طور پر اشتعال انگیزی اور فرقہ وارانہ نفرت کو ہوا دینے کے مترادف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مذکورہ ویڈیو پورے ملک میں دستیاب رہی اور انہوں نے اسے اسی پولیس اسٹیشن کے دائرہ اختیار میں دیکھا ہے۔ اویسی نے مطالبہ کیا کہ تمام حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے خلاف فوری اور ضروری قانونی کارروائی کی جائے۔