پری یونیورسٹی سے 103 اور ایس ایس ایل سی سے 175 طلبہ حاصل کررہے ہیں فراغت ، امسال 14 طلبہ وطالبات نے کی حفظِ قرآن کی تکمیل
بھٹکل (فکروخبرنیوز) علی پبلک پری یونیورسٹی اور علی پبلک اسکول بھٹکل کا الوداعی جلسہ آج صبح 9 بجے اسکول کیمپس میں منعقد ہوا۔ اس موقع پر امسال علی پبلک پری یونیورسٹی سے ایک سو تین( 103 )جبکہ ایس ایس ایل سی سے ایک سو پچھتر (175 ) طلبہ وطالبات نے تعلیمی فراغت حاصل کی۔
جلسے میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ اور اساتذہ کو مختلف اعزازات سے نوازا گیا۔ امسال کا درّ علی ایوارڈ راحل احمد ابن عبدالباسط دامودی کے نام رہا۔ بیسٹ ٹیچر ایوارڈ ہائی اسکول سیکشن میں جناب یاسین اوٹی اور پرائمری سیکشن میں جناب عماد پیشمام ندوی کو دیا گیا۔ اسی طرح بیسٹ اچیومنٹ ایوارڈ محمد فاروق ابن رشاد حسن رکن الدین کو ملا، جبکہ دسویں کے اردو مضمون میں سو میں سو نمبر حاصل کرنے والے محمد واضح اور محمد فاروق کو خصوصی انعامات سے سرفراز کیا گیا۔
طلبہ نے اپنے دس اور بارہ سالہ تعلیمی روداد کے سفر کی داستان بیان کرتے ہوئے اپنے اساتذہ اور ان تمام ساتھیوں کا بھی خصوصی تذکرہ کیا جنہوں نے اس تعلیمی سفر میں ان کی ہمت بندھائی اور تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے کے لیے ان کا ساتھ دیا، اسی طرح اپنے والدین اور ان تمام احباب کا بھی تذکرہ کیا جنہوں نے انہیں یہاں تک پہنچانے میں ہر طرح کا تعاون کیا۔
الوداعی نشست کے دوران ہائی اسکول اور کالج کے تین طلبہ کی حفظِ قرآن کی تکمیل نائب مہتمم جامعہ ضیاء العلوم رائے بریلی مولانا عبدالسبحان ناخدا ندوی کے ذریعہ انجام پائی۔ یاد رہے کہ امسال علی پبلک اسکول اور کالج سے 14 طلبہ وطالبات نے حفظِ قرآن کی تکمیل کی۔ اس موقع پر مولانا نے اپنے فکرانگیز خطاب میں کہا کہ وہ تمام افراد جو اسلامی اسکولوں کے قیام کے ذریعے ایسی نسل تیار کرنا چاہتے ہیں جو اپنے ایمان کی حفاظت کرنے والی ہو، وہ اس لائق ہیں کہ انہیں سروں پر بٹھایا جائے اور پلکوں پر سجایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسلام عطا کرکے عزت بخشی ہے، اب ہماری ذمہ داری ہے کہ صراطِ مستقیم پر چلتے ہوئے ان میدانوں میں کام کریں جہاں اسلام اور ایمان کی روشنی نہیں پہنچی ہے۔
مولانا عبدالسبحان ندوی نے الوداع ہونے والے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ الوداع محض ایک رسمی مرحلہ ہے، حقیقت یہ ہے کہ ایک دن اللہ تعالیٰ ہم سب کو جمع کرے گا، اس لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ جہاں بھی خیر ملے، وہاں دوسروں کو ساتھ لے کر جائیں، نہ کہ دوسروں کو گرا کر یا بچھاڑ کر۔
اس موقع پر بانی و جنرل سکریٹری مولانا ابوالحسن علی ندوی اسلامک اکیڈمی بھٹکل مولانا محمد الیاس ندوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الحمدللہ اسکول کے قیام کے ساتھ ہی حفظ کلاسس کا بھی آغاز کیا گیا، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ امسال اسکولی تعلیم کے ساتھ ساتھ 14 طلبہ و طالبات نے حفظِ قرآن کی تکمیل کی، جبکہ شعبۂ حفظ میں 300 سے زائد طلبہ و طالبات زیرِ تعلیم ہیں، جن کی تربیت کے لیے 22 حفاظ اور حافظات پوری لگن اور شوق کے ساتھ خدمات انجام دے رہی ہیں۔ مولانا نے اسکول کے ان تمام محسنین کا نام لے لے کر تذکرہ کیا جو ہمارے درمیان نہیں ہے اور جو بقیدِ حیات ہیں ان کی صحت یابی کے لیے دعا بھی فرمائی۔
واضح رہے کہ جلسے کا آغاز محمد ابن عبدالمتین اکرمی کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ نعتِ رسول ﷺ محمد ابن وسیم جوباپو نے پیش کی۔ استقبالیہ کلمات شمس تبریز نے ادا کیے اور فارغین، ان کے سرپرستوں اور متعلقین کا خیرمقدم کیا۔
اس موقع پر اسٹیج پر صدر علی پبلک اسکول مولانا مقبول احمد ندوی ، نائب مہتمم جامعہ اسلامیہ بھٹکل مولانا عبدالعلیم ندوی ، رکنِ شوریٰ جامعہ اسلامیہ بھٹکل مولانا عبدالمتین منیری ، دارالعلوم ندوۃ العلماء کے اساتذہ میں جناب امجد ندوی اور جناب وصّاف ندوی ، ٹرسٹی جناب جان عبدالرحمن صاحب ، مولانا فاروق صاحب ندوی اور دیگر موجود تھے۔
