مطالبات کی تکمیل کے لیے اساتذہ کا ’دہلی چلو‘ احتجاج ، اے آئی آئی ٹی اے کی 5 فروری کے دھرنے کی مکمل حمایت

بھٹکل (فکروخبر نیوز) آل انڈیا ٹیچرس جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے اساتذہ کے دیرینہ اور بنیادی مطالبات کی تکمیل کے لیے 5  فروری کو قومی راجدھانی دہلی میں ’دہلی چلو‘ احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں آل انڈیا آئیڈیل ٹیچرس اسوسی ایشن (اے آئی آئی ٹی اے) نے اس ملک گیر احتجاج کی مکمل حمایت کا اظہار کیا ہے۔ یہ بات آئی آئی ٹی اے کرناٹک یونٹ کے ریاستی صدر ایم آر مانوی نے بتائی۔

انہوں نے کہا کہ پرائمری اسکول سے لے کر یونیورسٹی سطح تک کی مختلف اساتذہ تنظیمیں متحد ہو کر آل انڈیا ٹیچرس جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم تلے جدوجہد کر رہی ہیں۔ اسی کے تحت 5  فروری کو صبح 10 بجے سے دہلی کے جنتر منتر پر زبردست دھرنا اور ستیہ گرہ منعقد کیا جائے گا جس میں ملک بھر سے اساتذہ شرکت کریں گے۔

ایم آر مانوی کے مطابق اس احتجاج میں اساتذہ کے مفادات کے تحفظ سے متعلق کئی اہم مطالبات سامنے رکھے جائیں گے۔ ان میں سرفہرست نئی پنشن اسکیم (این پی ایس) کو ختم کرکے پرانی پنشن اسکیم (او پی ایس) کی بحالی، موجودہ سروس اساتذہ کو اساتذہ اہلیت امتحان (ٹی ای ٹی) سے استثنیٰ، اور پرائمری اساتذہ کو قانون ساز کونسل کے اساتذہ حلقوں کے انتخابات میں ووٹنگ کا حق دینا شامل ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ دیگر مطالبات میں آٹھویں پے کمیشن کی رپورٹ پر مقررہ وقت میں عمل درآمد، ملک بھر میں خالی تدریسی اسامیوں کو فوری طور پر پُر کرنا، مہمان اور کنٹریکٹ اساتذہ کو مستقل کرنا اور کم از کم اجرت مقرر کرنا شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نئی تعلیمی پالیسی میں موجود طلبہ دشمن اور استاد دشمن دفعات کو ہٹانے، سرکاری اسکولوں کے انضمام یا بندش کے عمل کو روکنے اور اساتذہ کو غیر تدریسی کاموں سے آزاد کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

ایم آر مانوی نے ریاست کے تمام اساتذہ سے اپیل کی کہ وہ اس اہم ’دہلی چلو‘ پروگرام میں بڑی تعداد میں شرکت کریں اور اپنے حقوق کی اس مشترکہ جدوجہد کو کامیاب بنائیں۔

بڑی تعداد میں شرکت کریں اور اپنے حقوق کی اس مشترکہ جدوجہد کو کامیاب بنائیں۔