“گھٹیا قیاس آرائیاں”ایپسٹین فائلز میں وزیراعظم مودی کے اسرائیل دورے کے مبینہ ذکر پر وزارت خارجہ کاسخت ردعمل

نئی دہلی: بھارتی وزارتِ خارجہ نے اُن خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جن میں بدنام امریکی مجرم Jeffrey Epstein سے منسوب ایک مبینہ ای میل میں وزیرِاعظم Narendra Modi کا حوالہ دیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اشارے بے بنیاد ہیں اور انہیں سنجیدگی سے لینے کی کوئی وجہ نہیں۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان Randhir Jaiswal نے بیان میں کہا کہ وزیرِاعظم کا جولائی 2017 میں ہونے والا سرکاری دورۂ Israel ایک تاریخی سفارتی دورہ تھا، تاہم اس کے علاوہ مبینہ ای میل میں درج باتیں “ایک سزا یافتہ مجرم کی گھٹیا سوچ” ہیں، جو “مکمل حقارت کے ساتھ مسترد کیے جانے کے قابل” ہیں۔
یہ معاملہ اُس وقت سامنے آیا جب امریکی محکمہ انصاف US Department of Justice کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات کے ایک حصے میں شامل ایک مبینہ ای میل کا حوالہ میڈیا میں گردش کرنے لگا۔ اس ای میل میں دعویٰ کیا گیا کہ بھارتی وزیرِاعظم نے اسرائیل کے دورے کے دوران ایپسٹین کا “مشورہ لیا” اور یہ کہ اس ملاقات کے اثرات امریکی قیادت کے لیے مفید ثابت ہوئے۔
بھارتی حکومت نے ان دعوؤں کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیا ہے۔
کانگریس کا مؤقف
اپوزیشن جماعت Indian National Congress نے اس معاملے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے وزیرِاعظم سے براہِ راست وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کے ترجمان Pawan Khera نے اپنے بیان میں کہا:
“یہ قومی سطح پر باعثِ شرمندگی بات ہے کہ ایک سزا یافتہ انسانی اسمگلر، بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث مجرم اور سیریل ریپسٹ جیفری ایپسٹین نے یہ دعویٰ کیا کہ بھارتی وزیرِاعظم نے اس کا ‘مشورہ لیا’ اور اسرائیل میں امریکی صدر کے فائدے کے لیے گایا اور ناچا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ:
“اگر بھارت کے وزیرِاعظم کا کسی ایسے بدنام زمانہ شخص کے ساتھ کسی بھی درجے کا قرب یا رابطہ رہا ہو تو یہ فیصلے کی صلاحیت، شفافیت اور سفارتی وقار پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔”
پون کھیرا نے الزام عائد کیا کہ:“اب یہ واضح ہو رہا ہے کہ وزیرِاعظم کا جیفری ایپسٹین کے ساتھ ایک براہِ راست اور غیر واضح تعلق تھا، جس کی بدنام فہرست نے عالمی سطح پر سیاسی و سماجی ہلچل مچا رکھی ہے۔”
انہوں نے اس مبینہ تعلق کو “ناقابلِ معافی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ “قومی وقار اور بین الاقوامی ساکھ” سے جڑا ہوا ہے اور وزیرِاعظم کو خود اس پر وضاحت دینی چاہیے۔
کانگریس کے اٹھائے گئے تین سوال
پون کھیرا نے وزیرِاعظم سے تین مخصوص سوالات کے جواب دینے کا مطالبہ کیا:
وزیرِاعظم آخر جیفری ایپسٹین کا “مشورہ” کس مقصد کے لیے لے رہے تھے؟
اسرائیل میں “گانے اور ناچنے” کا ذکر امریکی صدر کے کس فائدے کے تناظر میں کیا گیا؟
ای میل میں درج جملہ “It worked” کس چیز کی کامیابی کی طرف اشارہ کرتا ہے؟
پس منظر
جیفری ایپسٹین ایک امریکی مالیاتی شخصیت تھا جسے کم عمر لڑکیوں کی اسمگلنگ اور جنسی استحصال کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا۔ 2019 میں نیویارک کی جیل میں اس کی موت کو خودکشی قرار دیا گیا۔ اس سے وابستہ شخصیات کے بارے میں دستاویزات اور دعوے وقتاً فوقتاً منظرعام پر آتے رہتے ہیں، تاہم ان میں شامل ہر ذکر کی باضابطہ تصدیق ہونا ضروری نہیں ہوتی۔
موجودہ صورتحال
اس وقت معاملہ سرکاری تردید اور سیاسی تنقید کے درمیان ہے۔ حکومت نے واضح الفاظ میں الزامات مسترد کیے ہیں، جبکہ اپوزیشن اسے شفافیت اور جوابدہی کا معاملہ قرار دے رہی ہے۔ تاحال کسی سرکاری یا عدالتی سطح پر ایسے دعوؤں کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ماہرین کے مطابق یہ تنازع زیادہ تر سیاسی بیانیے کا حصہ بن چکا ہے، تاہم سفارتی حساسیت کے باعث اس پر بحث جاری رہنے کا امکان ہے۔