دہرادون : دو کشمیری نوجوانوں کے ساتھ شدید مارپیٹ

دہرادون: اتراکھنڈ اور ملک کے دیگر حصوں میں کشمیری شال فروشوں پر حملوں کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اب دہرادون کے وکاس نگر میں دو کشمیری نوجوانوں سے مارپیٹ کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ متاثرہ کشمیری نوجوان شال بیچنے کے لیے کشمیر سے اتراکھنڈ آئے تھے۔
اطلاعات کے مطابق دو مسلم کشمیری نوجوان دہرادون کے وکاس نگر بازار میں ڈاک پتھر روڈ پر ایک دکان سے کچھ سامان خریدنے گئے تھے۔ الزام ہے کہ دکان پر موجود لوگوں نے ان کے خلاف مذہبی اور نسلی تبصرے کیے۔ متاثرین کا دعویٰ ہے کہ اس کے بعد انہیں پہلگام دہشت گردانہ حملے سے جوڑتے ہوئے قابل اعتراض تبصرہ کیا گیا اور جب انہوں نے احتجاج کیا تو ان پر جان لیوا حملہ کیا گیا۔

اس حملے میں دونوں کشمیری نوجوان شدید زخمی ہو گئے۔ ان کے جسم پر شدید زخموں کے نشانات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ واقعے کی خبر پھیلتے ہی علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
وکاس نگر بازار پولیس اسٹیشن پر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوگئے۔ جائے وقوع پر جمع اقلیتی طبقے کے لوگوں نے زخمی نوجوانوں کو کندھوں پر اٹھا کر پولیس اسٹیشن کا گھیراؤ کیا اور ’’مسلمانوں پر ظلم بند کرو‘‘ جیسے نعرے لگائے۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ اتراکھنڈ میں مذہب کی بنیاد پر مسلم کمیونٹی کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پولیس کی جانب سے سخت کارروائی کی یقین دہانی کے بعد احتجاج ختم ہوا۔
حملے میں زخمی ہونے والے نوجوانوں کے ایک رشتہ دار عبدالرشید مہیر نے بتایا کہ وہ ہر سال نومبر سے مارچ کے درمیان اتراکھنڈ میں کشمیری کپڑے فروخت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سال 2008 سے یہاں آ رہے ہیں، جب کہ متاثرین یہاں پہلی بار آئے ہیں۔ الزام ہے کہ متاثرہ نوجوانوں کو مذہب منافرت کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا اور ان پر حملہ کیا گیا۔
متاثرین کی شکایت کی بنیاد پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ ایک ملزم سنجے یادو کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور اس سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے میں سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
وکاس نگر پولیس اسٹیشن کے ایس ایس آئی ششوپال رانا نے بتایا کہ ‘واقعہ کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ جموں کے رہنے والے دانش اور تابش بدھ کو وکاس نگر مارکیٹ میں کمبل اور سوٹ بیچنے گئے تھے۔ اس دوران وہ ڈاک پتھر کے ایک جنرل اسٹور پر کچھ سامان خریدنے گئے۔ اسی بیچ دکان کے مالک اور کشمیری کاروباریوں میں جھگڑا ہوا جو مار پیٹ کی شکل اختیار کر گیا۔’
دانش ولد مولانا یاسین ساکن کرل پور، جموں و کشمیر جو فی الحال پاونٹا صاحب کے رہنے والے ہیں، نے شکایت درج کرائی ہے۔ دانش نے بتایا کہ دیر شام وکاس نگر کے ڈاک پتھر روڈ کے قریب ایک دکاندار سے سامان خریدتے ہوئے جھگڑا ہوا جس کے نتیجے میں دکاندار نے ان پر حملہ کر دیا۔ شکایت کی بنیاد پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں-