تحریر : عتیق الرحمن ڈانگی ندوی
رفیق فکروخبر
آج پھر وہی مانوس منظر، وہی وھاٹس ایپ پر گردش کرتی دل دہلا دینے والی تصاویر، وہی چیختا ہوا سناٹا۔ ویڈیو میں ایک رکشہ ہے—ایسا لگتا ہے جیسے وہ صرف سواری نہیں، بلکہ انسانی المیے کو اٹھائے دوڑ رہا ہو۔ ایک زخمی سیٹ پر بیٹھا ہے، چہرہ پہچانا نہیں جاتا، بس خون ہے جو پہچان بن گیا ہے۔ دوسرا اس کے قدموں کے پاس نڈھال سا بیٹھا ہے، جیسے جسم نے روح کا ساتھ چھوڑ دیا ہو۔ آنکھیں بند ، سانسیں بے ترتیب، اور چہرے سے بہتا ہوا خون خاموشی سے سوال کر رہا ہے: قصور کس کا ہے؟
رکشے کے اردگرد لوگوں کا ہجوم ہے۔ کوئی موبائل اٹھائے ویڈیو بنا رہا ہے، کوئی جھانک کر دیکھ رہا ہے، کوئی دل ہی دل میں دعائیں مانگ رہا ہے۔ شاہراہ کنارے یہ منظر اب نیا نہیں رہا۔ دل دعا اور غصے کے بیچ معلق ہیں۔ دعائیں زخمیوں کے لیے ہیں، اور غصہ اُس سڑک کے لیے جو برسوں سے ادھوری ہے، جو روز کسی نہ کسی کی زندگی کا چراغ بجھادیتی ہے۔
زخمیوں کو اسپتال پہنچایا گیا ، ایک کی حالت نازک ہے ، وہ بول نہیں رہا ، شاید بولنے کو کچھ بچا ہی نہیں۔ ایمبولنس کے سائرن کی آوازنے امید جگائی ، منگلورو لے جانے کی بات سننے کو آئی مگر! مگر کچھ دیربعد اس آواز نے رہی سہی امدیں بھی ختم کردیں۔ ’’ شدید زخمی شخص چل بسا‘‘
بس سب کچھ یہیں رک سا گیا، ایک گھر خاموش ہوگیا ، ایک ہنستا کھیلتا خاندان اچانک مرجھاگیا
بیوی بیوہ اور بچے یتیم ہوگیے ، ماں کا لختِ جگر ہمیشہ کے لیے جدا ہوگیا ، دوست اپنے دوست کو یادوں میں ڈھونڈنے لگے
اور یہ سڑک… وہی سڑک… خاموش کھڑی ہے، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
وھاٹس ایپ پر طوفان برپا ہے۔ سوال در سوال۔ غصہ، دکھ، بے بسی۔
بھٹکل کی اہم شاہراہ—جس کا توسیعی مرحلہ پچھلے تیرہ برسوں سے چل رہا ہے—اب لوگوں کے لیے ترقی کا نشان نہیں، بلکہ موت کا راستہ بن چکی ہے۔ پے درپے حادثات، بکھرتی زندگیاں، اور وہی پرانا وعدہ: جلد کام مکمل ہوگا۔
افسران کے بیانات آتے ہیں، تاریخیں دی جاتی ہیں، امیدیں جگائی جاتی ہیں۔ کل ہی رنگن کٹا ہٹایا گیا تھا، کھدائی شروع ہوئی تھی، ڈپٹی کمشنر کے دورے نے لوگوں کے دلوں میں ایک چراغ جلایا تھا۔ مگر دو چار دن بعد وہ چراغ پھر بجھ گیا۔ مشینیں خاموش ہو گئیں، کام ٹھپ ہو گیا، اور سڑک پھر سے اپنی بے رحم حقیقت میں لوٹ آئی۔
اب سوال یہ نہیں کہ حادثہ کیوں ہوا۔
اب سوال یہ ہے کہ اتنے حادثات کے بعد بھی کام کیوں مکمل نہیں ہوا؟
کیا انسانی جانوں کی قیمت فائلوں میں دبے کاغذوں سے کم ہے؟
کیا کوئی جواب دہ ہے؟
کیا کوئی ذمہ دار ہے؟
یا پھر ہمیں ہر چند دن بعد
ایک نئی ویڈیو، ایک نئی لاش، اور ایک نیا سوال وھاٹس ایپ پر دیکھنے کا عادی بنا دیا گیا ہے؟
یہ سڑک صرف اینٹ اور تارکول کا مسئلہ نہیں رہی۔ یہ اب ایک اخلاقی امتحان ہے ۔ انتظامیہ کے لیے بھی اور ہمارے اجتماعی ضمیر کے لیے بھی۔
سوال اپنی جگہ قائم ہے
ادھورے کام کا ذمہ دار کون؟
