کاروار میں ضلع انچارج وزیر منکال وئیدیا نے سوپر اسپیشالٹی ہاسپٹل کے متعلق کیا کہا؟

کاروار(فکروخبرنیوز) وزیر برائے ماہی گیری و ضلع انچارج منکال وئیدیا نے کہا کہ ملٹی اسپیشالٹی اور سوپر اسپیشالٹی ہاسپٹل کے فرق کے بارے میں عوام میں اب بھی الجھن پائی جاتی ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے 250 کروڑ روپے کا فنڈ منظور کیا گیا ہے، جس کے تحت ایم آر آئی مشین کی خریداری کے ساتھ ساتھ کینسر علاج وارڈ کی تعمیر کا کام جاری ہے۔ اس وقت کاروار ڈسٹرکٹ ہاسپٹل میں ملٹی اسپیشالٹی سہولتیں دستیاب ہیں، جبکہ آنے والے دنوں میں سوپر اسپیشالٹی ہاسپٹل کی تعمیر عمل میں لائی جائے گی، جس کا اعلان حالیہ بجٹ میں کیا جا چکا ہے۔ کاروار میں اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت کریمس کے احاطے میں ملٹی اسپیشالٹی ہاسپٹل موجود ہے، جبکہ سوپر اسپیشالٹی ہاسپٹل کا قیام ابھی باقی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سوپر اسپیشالٹی ہاسپٹل کے قیام کے سلسلے میں وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا جا چکا ہے، اور دونوں نے اتر کنڑا ضلع کے عوام کے لیے ایک بڑے اسپتال کی ضرورت کو تسلیم کیا ہے۔

اس دوران اخباری نمائندوں کی جانب سے کاروار میں ملٹی اسپیشالٹی ہاسپٹل کی موجودگی سے متعلق وضاحت طلب کیے جانے پر رکن اسمبلی ستیش سئیل نے کریمس کی ڈائریکٹر سے فون پر رابطہ کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر پورنیما نے وزیر منکال وئیدیا کو بتایا کہ ماہر ڈاکٹروں کی کمی کے علاوہ ملٹی اسپیشالٹی ہاسپٹل کی دیگر تمام سہولتیں دستیاب ہیں۔

کاروار میں ہی سوپر اسپیشالٹی ہاسپٹل کے قیام سے متعلق بات کرتے ہوئے منکال وئیدیا نے کہا کہ فی الحال ماہر ڈاکٹروں کی تقرری ایک بڑا مسئلہ ہے۔ تقرری کا عمل شروع کرنے کے باوجود ڈاکٹر آگے آنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ اسپتال میں مشینیں اور آلات تو موجود ہیں، مگر ماہر ڈاکٹر دستیاب نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام سہولتیں اور انتظامات مکمل ہونے کے بعد ہی ڈاکٹروں کی تقرری پر غور کیا جائے گا۔