جشن جمہوریت

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ 

آزاد ہندوستان کی تاریخ میں 26 جنوری اور 15 اگست کو خاص اہمیت حاصل ہے، 15 اگست 1947ء کو بھارت آزادی ایکٹ (10,11GE06C.30 کے تحت ہندوستان آزاد ہوا، اور 26 جنوری 1950ء کو ہندوستانی آئین کے مطابق 1935ء سے جاری دستور کو کالعدم قرار دے کر ہندوستانی دستور نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا، یہ دستور 26 نومبر 1949ء کو دستور ساز اسمبلی میں پاس ہو چکا تھا ، انتظار دوسرے 26 جنوری کا کیا گیا؛ کیونکہ 26 جنوری 1930ء کو انڈین نیشنل کانگریس نے پہلی بار مکمل آزادی کی تجویز پاس کی تھی ، اس طرح دیکھیں تو 26 جنوری کی اہمیت غلام ہندوستان کی تاریخ میں پہلے سے موجود تھی۔

اس دستور کے نفاذ سے ملک جمہوری قرار پایا اور آج یہ دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک کے طور پر جانا جاتا ہے، اس تاریخی دن کی یاد میں پورے ملک میں ترنگا لہرایا جاتا ہے، اور خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے، مرکزی پروگرام کا انعقاد دہلی میں ہوتا ہے اور صدر جمہوریہ کی صدارت میں جشن جمہوریت کا آغاز ہوتا ہے اس موقع سے دوسرے ملک کے صدر ، وزیر اعظم و غیرہ کو بھی مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا جاتا ہے جو ہماری طاقت، ترقی اور خود مختاری سے متعلق مظاہروں کے چشم دید گواہ بنتے ہیں، غیر ملکی مہمانوں کے انتخاب میں اس بات کا دھیان رکھا جاتا ہے کہ اس ملک سے ہندوستان کے تعلقات ثقافتی ، اقتصادی اور سیاسی سطح پر استوار ہوں، بھوٹان سری لنکا، فرانس، روس اور برطانیہ کو اس جشن میں بار بار مدعو کیا جاتا رہا ہے۔ 

ٹی وی پر براہ راست اس پروگرام کو نشر کیا جاتا ہے، بڑی تعداد میں تماش بیں دیر رات سے ہی پریڈ گراؤنڈ پر موجود ہوتے  ہیں، ایک امنگ ، ایک خوشی کا ماحول ہر سو ہوتا ہے اور ہم تھوڑی دیر کے لیے ملکی مسائل، عدم رواداری کے واقعات اور جمہوری قدروں کی جو پامالی مختلف موقعوں سے ہوتی ہے، اس کو بھول جاتے ہیں ؛ حالاں کہ یہ دن ماضی کی یاد، حال کے محاسبہ اور مستقبل کے لیے یوم عہد ہے ہمیں چاہیے کہ اس دن مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو یاد کریں، ان کو بھی جن کے نام مشہور و معروف ہیں اور انہیں بھی جنہیں ملک بھولتا جا رہا ہے یا بھلانے کی دانستہ کوشش کی جارہی ہے، آزادی کے پچاس سال پورے ہونے پر قاضی مجاہد الاسلام قاسمی نور اللہ مرقدہ نے کا روان آزادی نکال کر ہر علاقے کے گم نام مجاہدین پر مضامین و مقالات اور کتابچہ چھپوا کر اچھے کام کا آغاز کیا تھا ، اس سلسلے کو جاری رکھنا چاہئے اور ایسے تمام شہیدوں پر مضامین و مقالات لکھے جانے چاہیے، جو ہماری نظروں ہی سے نہیں، تاریخ کی کتابوں سے بھی غائب ہیں، تاکہ ان کے ساتھ زیادتی کا جو سلسلہ برسوں سے جاری ہے ختم ہو ، کاروان آزادی کے موقع سے جو گم نام مجاہدین پر مختلف علاقوں میں کام ہوا تھا ، اس کو یکجاں کردیا جائے تو بھی بہت سارے مجاہدین کے نام و کام سے لوگوں کو واقفیت ہوگی، اس طرف محققین کی توجہ کم ہو رہی ہے اور ہم یک روزہ جمہوریت منا کر پھر سال بھر سو جاتے ہیں یہ اچھی علامت نہیں ہے ،خصوصاً اس دور میں جب ہندوستان کی تاریخ کو فرضی بنیادوں پر از سرنو لکھنے کا کام جاری ہو اور چن چن کر مسلم مجاہدین آزادی کا نام نصاب سے نکالنے کی مسلسل مہم چل رہی ہو، ایسے میں اس کام کو ترجیحی بنیاد پر آگے بڑھانا چاہیے، حال کے محاسبہ میں ہمیں دیکھنا چاہیے کہ جمہوری اقدار اور عمل میں کس قدر تال میل ہے، کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نے ان قدروں کو کہیں کھو دیا ، جو بڑوں نے اس ملک کی سالمیت، بقا اور تحفظ کے لیے ہمارے حوالے کیا تھا ، جس کی وجہ سے دستور ساز اداروں میں جمہوری قدروں کی پامالی ہو رہی ہے اور پارلیامنٹ اور اسمبلیاں میدان جنگ بن گئی ہیں، اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جمہوریت اور سیکولرزم ایک نعرہ بن کر رہ گیا ہے، جو سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ جشن جمہوریت کے اس موقعہ پر ہم سب کو اس کا بھی محاسبہ کرنا چاہیے کہ آزادی کے بعد ملک نے اقتصادی تعلیمی اور سماجی اعتبار سے کس حد تک ترقی کی ہے، کہاں کہاں کے منصوبے پورے ہوۓ اور کہاں رکاوٹیں پیدا ہوئیں ۔

مستقبل کے حوالہ سے ہمیں یہ ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم اس ملک کی جمہوری روایت پر آنچ نہیں آنے دیں گے اور نہ ہی دوسروں کو ایسا کچھ کرنے دیں گے؛ جس سے اس ملک کا جمہوری ڈھانچہ شکست وریخت اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو ، ہم لوگوں سے ان امور پر عہد لیں اور خود بھی عہد کریں ، اگر ہر ریاست ضلع، بلاک تعلیمی ادارے اسکول اور مدارس میں 26 جنوری کے موقع پر ہم یہ کام کرلیں تو یہ ملک کے لیے انتہائی مفید اور کار آمد تقریب ہوگی ، جس کے اثرات سے سماج کے ہر طبقہ کو فائدہ پہونچے گا