شہری آزادیوں کے تحفظ کی ملک گیر تنظیم Association for Protection of Civil Rights (اے پی سی آر) نے بدھ کے روز ایک تفصیلی اور چشم کشا رپورٹ جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ بی جے پی کے زیرِ اقتدار Uttarakhand میں مسلم برادری کو منظم تشدد، جبری بے دخلی، معاشی بائیکاٹ اور سماجی اخراج جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے، جو رفتہ رفتہ ایک معمول کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
56 صفحات پر مشتمل رپورٹ — “Excluded, Targeted and Displaced: Communal Narratives and Violence in Uttarakhand” — میں کہا گیا ہے کہ نفرت پر مبنی سیاست اور اکثریتی بیانیے نے ریاست میں انسانی حقوق کی پامالی کو فروغ دیا ہے اور آئینِ ہند کی ضمانت کردہ مساوات، وقار اور تحفظ کو بتدریج کمزور کیا جا رہا ہے۔
پریس کلب آف انڈیا میں رپورٹ کی رونمائی
یہ رپورٹ Press Club of India میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں جاری کی گئی، جس میں نامور قانون دانوں، صحافیوں، سابق بیوروکریٹس اور انسانی حقوق کے کارکنان نے شرکت کی۔ مقررین نے خبردار کیا کہ اتراکھنڈ میں پیش آنے والے واقعات محض علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ ملک میں بڑھتی ہوئی اکثریتی سیاست کے ایک وسیع تر اور تشویشناک رجحان کی علامت ہیں، جہاں ریاستی طاقت، ویجیلینٹ گروپس اور انتظامی کارروائیوں کے ذریعے ایک پوری برادری کو حاشیے پر دھکیلا جا رہا ہے۔
کانفرنس سے خطاب کرنے والوں میں سابق دہلی لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ، سینئر وکیل پرشانت بھوشن ، سماجی کارکن و سابق آئی اے ایس افسر ہرش مندر، سینئر صحافی صبا نقوی اور سابق اتراکھنڈ وزیریعقووب شامل تھے۔ اس کے علاوہ صحافی و محققین کوشک راج ، شاداب عالم اور سماجی کارکن خورشید،فواز شاہین نے بھی اپنے خیالات پیش کیے۔
انسانی حقوق کے ممتاز کارکن ہرش مندر نے اتراکھنڈ میں موجودہ طرزِ حکمرانی کو “گہرے طور پر غیر آئینی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کو اس انداز میں “دیوبھومی” کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جہاں غیر ہندو شہریوں کے لیے جگہ تنگ کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا:“یہ تصور آئینِ ہند سے براہِ راست متصادم ہے۔ اس کے خلاف مزاحمت اور آئینی اخلاقیات کی بحالی ہر ہندوستانی کی ذمہ داری ہے۔
سابق لیفٹیننٹ گورنر نجيب جنگ نے مسلم بستیوں اور کاروباروں کے خلاف انہدامی کارروائیوں پر سخت سوال اٹھاتے ہوئے کہا:“کیا یہ واقعی قانون و امن کا مسئلہ ہے یا پھر نسلی صفائی کی ایک شکل؟”
انہوں نے خواتین، بچوں اور بزرگوں کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ حکومت اور پولیس کو جواب دہ بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بے روزگاری اور مسلسل نفرت انگیز پروپیگنڈا نوجوانوں کے ایک طبقے کو تشدد اور نفرت کی طرف دھکیل رہا ہے۔
سینئر صحافی صبا نقوی نے اس بیانیے کو چیلنج کیا کہ پورا سماج فرقہ وارانہ نفرت کے زیرِ اثر آ چکا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا:“کیا ایک دھرم سنسد نے سب کو شدت پسند بنا دیا؟” نہوں نے تعلیم اور مکالمے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج کئی لوگ محض روزگار، مکان کرایہ پر لینے یا تعلیم حاصل کرنے کے لیے اپنی شناخت چھپانے پر مجبور ہیں۔
تشدد کی جڑ: دسمبر 2021 کی دھرم سنسد
اے پی سی آر کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ پیش کرتے ہوئے صحافی Kaushik Raj نے بتایا کہ تشدد اور دھمکیوں کی حالیہ لہر کی جڑیں دسمبر 2021 میں ہریدوار میں منعقدہ دھرم سنسد سے جا ملتی ہیں۔
ان کے مطابق اس کے بعد مختلف اضلاع میں مسلم باشندوں کے خلاف دھمکیوں، معاشی بائیکاٹ اور منظم ہراسانی میں نمایاں اضافہ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ کئی مسلم دکانداروں کو “غیر قانونی” قرار دے کر راتوں رات علاقہ چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، حالانکہ ان میں سے بیشتر خاندان پانچ سے چھ دہائیوں سے وہیں آباد ہیں اور اتراکھنڈ کی مقامی معیشت کا لازمی حصہ ہیں۔
Kaushik Raj نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک مسلم ڈرائی کلینر نے اپنے ہندو گاہک سے سوال کیا:
“آپ تو میرے خلاف نعرے لگا رہے تھے؟”
جس پر گاہک نے جواب دیا:
“آپ کا کام اچھا ہے۔”
ان کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ کس طرح حقیقی سماجی رشتوں پر مصنوعی نفرت مسلط کی جا رہی ہے۔
صحافی Srishti Jaswal نے کہا کہ تشدد اب چند علاقوں تک محدود نہیں رہا۔
“جو کچھ اترا کاشی میں شروع ہوا تھا، وہ اب چمولی اور دیگر اضلاع تک پھیل چکا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ “غیر قانونی جانچ” کے نام پر شہریوں کو سماجی اخراج، جسمانی تشدد اور معاشی تباہی کا سامنا ہے، اور ایک ہندو اور ہندوستانی ہونے کے ناطے انہیں اس صورتحال پر شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔
اتراکھنڈ کے رہائشی Shadab Alam نے کہا کہ ریاست کے اصل مسائل — بے روزگاری، بڑے پیمانے پر ہجرت اور ترقی کی کمی — پسِ پشت ڈال دیے گئے ہیں۔
“حکومت نے حکمرانی کے بجائے مسلمانوں کو نشانہ بنانا اپنی ترجیح بنا لیا ہے۔”
خوف کی فضا اور تاریخی پس منظر
سماجی کارکن Khurshid Ahmed نے کہا کہ مسلم خاندانوں میں خوف اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ لوگ نام ظاہر کرنے، دکان چلانے اور کھل کر جینے سے گھبرا رہے ہیں۔
Latafat Hussain نے یاد دلایا کہ اتراکھنڈ کی تشکیل ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی سب کی مشترکہ قربانیوں کا نتیجہ تھی، اور نفرت انگیز مہمات عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کا ذریعہ بن رہی ہیں۔
ویجیلینٹ گروپس اور ریاستی سرپرستی کا الزام
سابق وزیر یعقوب صدیقی نے 2019 میں بغیر وارنٹ گرفتاری کا ذکر کرتے ہوئے سوال کیا:
“کون ہے جو لوگوں کو روک کر ان کے نام پوچھنے کا حق دے رہا ہے؟”
کانفرنس کے اختتام پر پرشانت بھوشن نے الزام لگایا کہ اتراکھنڈ میں تشدد سیاسی تنظیموں، ریاستی مشینری، میڈیا کے بعض حصوں اور تفتیشی ایجنسیوں کی سرپرستی میں ہو رہا ہے۔ انہوں نے ہر ضلع میں فرقہ وارانہ امن کمیٹیاں بنانے اور منظم نفرت کے خلاف “رضاکار سچ کی فوج” تشکیل دینے کی اپیل کی، ساتھ ہی عدلیہ کے کردار پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھائے۔
