پائلٹوں کی قلت کا مسئلہ حل ہو چکا ہے: انڈیگو کا ڈی جی سی اے کو یقین دہانی

نئی دہلی: دسمبر میں انڈیگو ایئرلائنس کو پیش آنے والی شدید آپریشنل بدنظمی کے بعد، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (DGCA) کی کڑی نگرانی میں ایئرلائن کے آپریشنز کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے۔ شہری ہوابازی کی وزارت کے مطابق، ڈی جی سی اے کی ہدایت پر انڈیگو نے اب تک چار ہفتہ وار اور تین پندرہ روزہ رپورٹس جمع کرائی ہیں، جبکہ باقاعدہ وقفوں سے اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاسوں میں بھی شرکت کی جا رہی ہے۔

20 جنوری کو منعقد ہونے والی تازہ جائزہ میٹنگ میں انڈیگو نے دعویٰ کیا کہ پائلٹوں کی قلت سے متعلق بحران پر قابو پا لیا گیا ہے اور موجودہ آپریشنل نظام معمول پر آ چکا ہے۔

ایئرلائن نے ڈی جی سی اے کو بتایا کہ فروری 2026 تک کے شیڈول کو مدنظر رکھتے ہوئے پائلٹوں کی دستیابی ضروری تقاضوں سے زیادہ ہے۔ انڈیگو کے مطابق ایئربس طیاروں کے لیے 2280 کیپٹنز درکار ہیں، جبکہ دستیاب کیپٹنز کی تعداد 2400 ہے۔ اسی طرح فرسٹ آفیسرز کی مطلوبہ تعداد 2050 کے مقابلے میں 2240 پائلٹس موجود ہیں۔

انڈیگو نے یہ بھی کہا کہ منظور شدہ نیٹ ورک اور دستیاب فلائٹ کریو کی بنیاد پر 10 فروری 2026 کے بعد پروازوں کی منسوخی کا کوئی خدشہ نہیں ہے۔ دسمبر 2025 میں دی گئی عارضی فلائٹ ڈیوٹی ٹائم لمیٹیشن (FDTL) میں رعایت بھی واپس لے لی گئی ہے۔

ڈی جی سی اے نے تاہم واضح کیا ہے کہ نگرانی کا عمل جاری رہے گا، خصوصاً کریو روسٹرز کی مضبوطی، پائلٹوں کی مسلسل دستیابی اور ایف ڈی ٹی ایل قوانین کی مکمل پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے۔ ریگولیٹر کے مطابق انڈیگو کے آپریشنز میں نمایاں استحکام آ چکا ہے۔

جائزہ اجلاس میں اس بات کا بھی تفصیلی تجزیہ کیا گیا کہ دسمبر میں بڑے پیمانے پر آپریشنل مسائل کیوں پیدا ہوئے۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ایئرلائن کی منصوبہ بندی میں خامیاں موجود تھیں، جہاں ممکنہ آپریشنل کمزوریوں کی بروقت نشاندہی نہیں کی گئی اور نہ ہی مناسب بفر برقرار رکھا گیا۔

کریو، طیاروں اور نیٹ ورک وسائل کے زیادہ سے زیادہ استعمال پر غیر معمولی انحصار کے باعث روسٹر بفر محدود ہو گئے۔ کریو روسٹرز کو اجازت شدہ ڈیوٹی اوقات کی آخری حد پر ترتیب دیا گیا، جس میں ڈیڈ ہیڈنگ، ٹیل سویپ اور توسیعی ڈیوٹی پیٹرنز پر ضرورت سے زیادہ انحصار شامل تھا۔ اس طرزِ عمل نے نہ صرف روسٹر کی پائیداری کو متاثر کیا بلکہ نظرثانی شدہ ایف ڈی ٹی ایل ضوابط کے مؤثر نفاذ میں بھی رکاوٹ ڈالی۔

واضح رہے کہ دسمبر 2025 کے آغاز میں انڈیگو کو شدید آپریشنل رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں اور متعدد پروازیں منسوخ کرنا پڑیں۔ ان مسائل کی بنیادی وجوہات میں فلائٹ کریو مینجمنٹ کی خامیاں، ریگولیٹری تیاری میں کمی، سسٹم اور سافٹ ویئر سپورٹ کی کمزوری، نیز آپریشنل کنٹرول اور انتظامی ڈھانچے میں نقائص شامل تھے۔