وزیر اعظم نریندر مودی نے آج اپنے ایک خطاب کے دوران ’اربن نکسل‘ کا ذکر کیا، جس نے کانگریس کو حملہ آور ہونے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے پی ایم مودی کے ’اربن نکسل‘ والے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ جاری کی ہے، جس میں لکھا ہے کہ ’’وزیر اعظم نے آج ’اربن نکسل‘ سے خطرے کی بات کہی۔ 11 مارچ 2020 کو وزیر مملکت برائے داخلہ نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ مرکزی وزارت داخلہ ’اربن نکسل‘ لفظ کا استعمال نہیں کرتا۔‘‘
مذکورہ بالا یاد دہانی کرانے کے بعد جئے رام رمیش نے وزیر اعظم مودی کے ایک پرانے بیان کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’29 اپریل 2024 کو خود وزیر اعظم نے ذات پر مبنی مردم شماری کا مطالبہ کرنے والوں اور معاشی عدم مساوات پر فکر ظاہر کرنے والوں پر ’اربن نکسل ذہنیت‘ سے متاثر ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔‘‘ بعد ازاں کانگریس لیڈر نے سوال کیا کہ ’’کیا (اس بیان سے متعلق) وزیر اعظم واضح کریں گے، یا ان کا ماننا ہے کہ جو بھی ان سے عدم اتفاق رکھتا ہے، وہ اربن نکسل ہے؟‘‘
قابل ذکر ہے کہ آج دہلی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا تھا کہ ’’ملک میں ایک بڑا چیلنج ’اربن نکسل واد‘ ہے۔ اربن نکسل واد کا دائرہ بین الاقوامی سطح کا ہوتا جا رہا ہے۔ اگر لوگ سال میں ایک دو بار بھی مودی کے بارے میں کچھ مثبت ٹوئٹ کرتے ہیں، یا ٹی وی پر کچھ مثبت بات کہہ دیتے ہیں، یا اخبار میں کچھ مثبت لکھتے ہیں، تو کچھ صحافی انھیں اتنا بے عزت کرتے ہیں، انھیں پریشان کیا جاتا ہے اور اچھوت تک بنا دیا جاتا ہے۔ یا پھر انھیں خاموش کرا دیا جاتا ہے تاکہ وہ پھر کبھی بول نہ سکیں۔ یہی اربن نکسل واد کا طریقہ ہے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’سالوں تک انھوں نے بی جے پی کو الگ تھلگ رکھا اور پورے ملک میں ہمارے ساتھ اچھوتوں جیسا سلوک کیا۔ اربن نکسلی لگاتار سازش کر رہے ہیں۔ انھیں تنظیم کی طاقت سے شکست دینی ہے۔ اب ملک ان اربن نکسلیوں کی حرکتوں کو سمجھ رہا ہے۔ اربن نکسل واد لگاتار ہندوستان کو نقصان پہنچانے کا کام کر رہا ہے۔‘‘
قومی آواز کے شکریہ کے ساتھ
