اس انڈیکس میں ممالک کی درجہ بندی اس بنیاد پر کی گئی ہے کہ وہ اپنی طاقت کا استعمال کتنی ذمہ داری کے ساتھ کرتے ہیں، چاہے وہ اپنے شہریوں کے ساتھ برتاؤ ہو (اندرونی ذمہ داری)، عالمی برادری کے ساتھ تعلقات (بیرونی ذمہ داری) یا ماحولیات کے تحفظ (ماحولیاتی ذمہ داری) کا معاملہ ہو۔
ذمہ دار نیشن انڈیکس میں سنگاپور پہلے نمبر پر رہا، جبکہ سوئٹزرلینڈ دوسرے، ڈنمارک تیسرے اور قبرص چوتھے نمبر پر رہے۔ ہندوستان 16ویں پوزیشن پر رہا، جو فرانس سے ایک درجہ اوپر ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ دنیا کی بڑی طاقت امریکہ 66ویں نمبر پر رہا، جو لیبیا سے ایک درجہ نیچے ہے، جبکہ جاپان 38ویں نمبر پر ہے۔
جنوبی ایشیا میں پاکستان 90ویں اور افغانستان 145ویں نمبر پر رہے۔
یہ پہلا عالمی اشاریہ ہے جو ممالک کی درجہ بندی طاقت یا معاشی صلاحیت کے بجائے ذمہ داری کو بنیاد بنا کر کرتا ہے۔ اس انڈیکس کو ورلڈ انٹلیکچوئل فاؤنڈیشن، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (IIM) ممبئی اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔
آر این آئی کی تیاری میں عالمی بینک، اقوام متحدہ، آئی ایم ایف، عالمی ادارۂ صحت (WHO) اور فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) جیسے بین الاقوامی اداروں کے 2023 تک کے مستند اعداد و شمار استعمال کیے گئے ہیں۔
لانچ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے سابق صدر رام ناتھ کووند نے کہا کہ یہ انڈیکس اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ ایک ذمہ دار قوم اپنے شہریوں، ماحول اور عالمی برادری کے ساتھ کس طرح ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرتی ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی ملک کی حقیقی صلاحیت جانچنے کے لیے اندرونی ذمہ داری، ماحولیاتی جوابدہی اور دیگر اقوام کے ساتھ ذمہ دارانہ طرزِ عمل بنیادی معیار ہیں۔
