بلال رکن الدین شپائی رخصت ہوگئے

 سید عبداللہ بافقیہ ندوی

میرے فون کی گھنٹی بجی جس کے ساتھ کئی خیالات جنم لینے گیے۔

اور میں کچھ تعجب کے ساتھ۔۔

دیر رات کس کا فون ؟؟

بھائی سید عرفات کا۔۔

بھائی کا فون اس وقت کیوں ؟

دل ہی دل میں ایک سکینڈ میں کافی سارے سوالات۔۔ ؟؟

پھر میں نے فون اٹھانے میں ذرا بھی دیر نہیں کی۔۔

بھائی کی آواز میں کچھ درد تھا۔۔

سلام خیر خیریت کے بعد ہچکچاتے اور کپکپاتے لبوں سے اپنے دوست بلال رکن الدین شپائی کی سڑک حادثے میں اس دارِ فانی سے رحلت کی خبر دی۔

خبر بجلی بن کر گری، پتہ نہیں کتنی دفعہ میں نے عرفات سے پوچھا کہ اپنا بلال۔۔ !؟ ہمارے محلہ ہائٹس کا مقیم۔۔ !؟ آپ کا دوست۔۔ !؟ ہر سوال کا جواب بھائی ہاں میں دے رہا تھا-

إنّا لله وإنّا إليه راجعون

خبر سنتے ہی بلال اور اس کی ساری خصوصیات ذہن میں گردش کرنے لگیں۔

میاں بلال کی مسکراہٹ تو اس کی پہچان تھی، نرم گفتار بھی ایسا کہ لفظ لفظ پر سلیقہ ٹپکے، ادب واحترام میں اس کی مثال دی جائے، تمیز سے رہنا کوئی اسی سے سیکھے، باجماعت نمازوں کا اہتمام، بروقت شبینہ مکتب کی حاضری، ہر کسی کی خدمت میں ہمیشہ آگے آگے، کسی کا سامنا ہو اور بلال میاں مسکراتے سلام نہ کرے ہو ہی نہیں سکتا، کسی اپنے سے سامنا ہونے کے بعد مصافحہ کی سنت شاید ہی اس سے چھوٹی ہو، عمر میں اتنے چھوٹے اور اخلاق وکردار میں بڑے بڑوں جیسی مثال، علماء وبزرگان کا حد درجہ احترام ، والدین کا فرمانبردار بھی، (کچھ مہینے قبل مرحوم کی والدہ بھی کچھ وقت علیل رہ کر انتقال کرچکی ہے۔ قبل وفات اس نے بھی اپنے بچوں سے رضامندی ظاہر کی تھی) یہ بات بھی مرحوم کی خوش بختی کے لیے کافی ہے) اساتذہ بھی سب اس سے خوش، ریاضت میں بھی چست کھلاڑی اور بھی کافی ساری خصوصیات مرحوم بلال میں موجود تھیں۔

آج وہ رب کے بلاوے پر لبیک کہتے ہم سب کو سوگوار چھوڑ گیا۔ حادثات تو بس اک بہانہ ہے، جب رب کا دیا ہوا مقررہ وقت ختم ہوجاتا ہے تو موت کے آنے میں نہ ایک لمحہ دیر ہوتی نہ ایک لمحہ جلدی ہوتی ہے۔

سننے والا ہر فرد سکتہ میں ہے۔ حادثہ میں زخمی اس کا رشتہ دار بھائی بھی کچھ ہی دیر بعد زخم کی تاب لا نہ سکا اور مالک حقیقی سے جاملا۔

اسی وقت یا کچھ آگے پیچھے ساتھ ساتھ ہمارے اور دو قریبی رشتہ دار بھی اپنا مقررہ وقت مکمل کرکے رب کے حضور حاضر ہوئے۔

اللہ تماموں کی بال بال مغفرت فرمائے، قبر کی راحتی نصیب فرمائے، جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور تمام مرحومین کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین