FEMI بنگلور اسکول لیڈرشپ ایوارڈ کانفرنس 2026

مسلم تعلیمی اداروں کا اتحاد ہی اصل طاقت ہے: ایم ایل سی نصیر احمد

جدید تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم اوراخلاقی تربیت پر تعلیم کا لازمی حصہ ہونا چاہیے : مولانا ڈاکٹر محمد مقصود عمران رشادی

بنگلورو: فیڈریشن آف مائنارٹیز ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (FEMI) کرناٹک چیپٹر کے زیرِ اہتمام اسکول لیڈرشپ ایوارڈ کانفرنس 2026 کا انعقاد 17 جنوری کو بیریس سوہردا بھون، بنگلورو میں کامیابی کے ساتھ عمل میں آیا۔ کانفرنس میں بنگلورو کے مسلم تعلیمی اداروں سے وابستہ 150 سے زائد اسکول سربراہان، ماہرین تعلیم اور تعلیمی منتظمین نے شرکت کی۔

کانفرنس کے مہمانِ خصوصی ناصر احمد ایم ایل سی اور وزیر اعلیٰ کے سیاسی سکریٹری نے اپنے خطاب میں کہا کہ نجی غیر امدادی اقلیتی اسکول محدود وسائل کے باوجود قابلِ تحسین تعلیمی نتائج پیش کر رہے ہیں، جو ان اداروں کی محنت، نظم و ضبط اور تعلیمی عزم کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم تعلیمی اداروں کا باہمی اتحاد ہی وہ طاقت ہے جو نہ صرف تعلیمی میدان بلکہ سماجی سطح پر بھی مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔ انہوں نے FEMI کے عہدیداران کو اس بامقصد کانفرنس کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔

کانفرنس کے صدارتی خطاب میں سید تنویر احمد (قومی جنرل سکریٹری، FEMI) نے کہا کہ اگر اقلیتی تعلیمی ادارے مضبوط اتحاد کی شکل اختیار کریں تو نہ صرف حکومت بلکہ سیاسی نمائندوں کو بھی ان کی ضروریات کا سنجیدگی سے احساس ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اساتذہ اور فارغ التحصیل طلبہ کے ذریعے ایک مضبوط ووٹ بینک تشکیل پاتا ہے، جو تعلیمی اداروں کو سیاسی سطح پر اپنی بات مؤثر انداز میں رکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اداروں سے اپیل کی کہ وہ فرقہ وارانہ تقسیم سے بالاتر ہو کر تعلیمی معیار، ادارہ جاتی ترقی، اجتماعی مفاد اور سماجی ذمہ داری کو ترجیح دیں۔

FEMI کرناٹک چیپٹر کے جنرل سکریٹری محمد آصف الدین نے کلیدی خطاب میں کہا کہ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد مسلم تعلیمی اداروں اور ان کے سربراہان کی خدمات کو تسلیم کرنا اور انہیں اعزازات سے نواز کر حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
اس موقع پر مختلف اسکولوں کے سربراہان کو معزز مہمانوں کے ہاتھوں اسکول لیڈرشپ ایوارڈز پیش کیے گئے۔

اسکولوں کی تجدید اور منظوری کے عمل میں نرمی

اقلیتی حیثیت کے سرٹیفکیٹ کے اجراء میں سہولت

پری میٹرک اسکالرشپس کے بجٹ میں 2026-27 کے لیے 1000 کروڑ روپے سے زائد اضافہ

مسلم اسکولوں کو سرکاری اراضی کی تقسیم اور انفراسٹرکچر گرانٹس

پوسٹ میٹرک اور ہائر ایجوکیشن (اوورسیز اسکیم) کے بجٹ کو دوگنا کرنا

دینی مدارس کی جدید کاری کے لیے درخواستیں براہِ راست (آن لائن) قبول کرنے کا نظام

محمد آصف الدین کی جانب سے اقلیتی تعلیمی اداروں کے مسائل پر مشتمل ایک میمورنڈم ایم ایل سی نصیر احمد کے ذریعے ریاستی وزارتِ تعلیم اور اقلیتی بہبود کی وزارت کو روانہ کیا گیا، جس میں درج ذیل مطالبات شامل تھے:

نصیر احمد نے یقین دہانی کرائی کہ وہ ان مطالبات کو وزیر اعلیٰ، وزیر تعلیم اور اقلیتی بہبود کے وزیر کے سامنے رکھیں گے اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ کوشش کریں گے۔

اس موقع پر مولانا ڈاکٹر محمد مقصود عمران رشادی (امام و خطیب، سٹی جامع مسجد بنگلورو) نے کہا کہ مسلم تعلیمی اداروں کو صرف جدید تعلیم تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ دینی تعلیم اور اخلاقی تربیت کو بھی تعلیمی نظام کا لازمی حصہ بنانا چاہیے۔

ڈاکٹر بیلگامی محمد سعد (چیئرمین، منصورہ ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ) نے کہا کہ ایسا ادارہ جو علم، اسلامی فکر اور اخلاقیات کو یکجا کرے، وہی حقیقی معنوں میں ایک جامع تعلیمی ادارہ کہلاتا ہے۔

مہمانِ خصوصی ڈاکٹر محمد طہٰ متین (ٹرسٹی، تقویٰ ایجوکیشنل ٹرسٹ) نے کہا کہ ہر معاشرے نے اپنے تعلیمی اداروں کے تحفظ اور رہنمائی کے لیے مضبوط تنظیمیں قائم کی ہیں، اس لیے مسلم تعلیمی اداروں کو بھی FEMI جیسے مشترکہ پلیٹ فارم کے تحت متحد ہونا چاہیے۔

کانفرنس میں ڈاکٹر بے نظیر نے پاور پوائنٹ پریزنٹیشن کے ذریعے اسکولوں کے سماجی کردار پر ایک مؤثر اور فکری موضوع پیش کیا، جس میں انہوں نے کہا کہ معاشرے کی مجموعی ترقی میں تعلیمی اداروں کا فعال اور مثبت کردار ناگزیر ہے۔

کانفرنس کے کنوینر اقبال احمد (صدر، FEMI بنگلور)، ہارون باشا (سکریٹری)، مولانا عبدالغفار حامد عمری، ریاض احمد رونا، سید بشارت احمد، اسلم ہیکادی اُڈوپی، عتیق پاشا، ریشما اقبال، سید اعجاز، سید منیر، ذوالفقار احمد، ڈاکٹر ظفر احمد اور دیگر معزز شخصیات بھی اس موقع پر موجود تھیں۔
آخر میں FEMI کی جانب سے تمام مہمانوں کو سووینئرز پیش کیے گئے۔