ایران میں تعینات ہندوستانی سفارت خانے نے ایرانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی تحویل میں موجود 16 ہندوستانی سمندری کارکنان کو فوری قونصلر رسائی فراہم کریں۔ یہ افراد ایک تجارتی بحری جہاز ’ایم ٹی ویلینٹ روَر‘ کے عملے سے تعلق رکھتے ہیں، جسے 8 دسمبر 2025 کو ایرانی حکام نے حراست میں لے لیا تھا۔
ہندوستانی سفارت خانے کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ معاملہ ایران میں عدالتی کارروائی کے دائرے میں ہے تاہم انسانی اور قونصلر بنیادوں پر عملے تک رسائی ناگزیر ہے۔ بیان کے مطابق بندر عباس میں قائم ہندوستانی قونصل خانے نے 14 دسمبر 2025 کو باضابطہ طور پر ایرانی حکومت کو خط لکھ کر عملے سے ملاقات اور قونصلر سہولت فراہم کرنے کی درخواست کی تھی، مگر تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔
سفارت خانے نے واضح کیا کہ گزشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے کے دوران تہران اور بندر عباس میں سفارتی خطوط اور اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے ذریعے بارہا قونصلر رسائی کا مطالبہ دہرایا گیا، جن میں سفیر کی سطح پر کی گئی ملاقاتیں بھی شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایرانی حکام سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ زیرِ حراست عملے کو اپنے اہلِ خانہ سے رابطے کی اجازت دی جائے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ہندوستانی مشن عملے کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہا ہے۔ خوراک، پانی اور ایندھن کی قلت کی اطلاعات کے بعد ایرانی بحریہ سے رابطہ کر کے ہنگامی بنیادوں پر رسد کی فراہمی کا انتظام کیا گیا۔ اس کے علاوہ دبئی میں قائم ہندوستانی قونصل خانے نے جہاز کی مالک کمپنی پر بھی دباؤ ڈالا ہے تاکہ وہ عملے کے لیے قانونی نمائندگی اور ضروری سہولیات فراہم کرے۔
ادھر اس معاملے نے قانونی رخ بھی اختیار کر لیا ہے۔ 16 ہندوستانی سمندری کارکنان کے اہلِ خانہ کی جانب سے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا، جس پر عدالت نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ قونصلر رسائی، تفتیش کی جلد تکمیل اور عملے کی بحفاظت وطن واپسی کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ کیس کی آئندہ سماعت 21 جنوری 2026 کو مقرر ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ زیرِ حراست جہاز ’ایم ٹی ویلینٹ روَر‘ دبئی کی کمپنی Glory International FZ LLC / Prime Tankers LLC کی ملکیت ہے، جسے بھارت میں گلوبل ٹینکرز کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ ایرانی حکام نے جہاز پر ڈیزل اسمگلنگ کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ جہاز میں صرف کم سلفر فیول آئل موجود تھا اور یہ جہاز بین الاقوامی پانیوں میں موجود تھا۔
دریں اثنا عملے کے ایک رکن کیتن مہتا کے والدین نے بھی وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کی ہے کہ وہ ذاتی مداخلت کر کے اپنے بیٹے سمیت تمام ہندوستانی شہریوں کی رہائی کو یقینی بنائیں۔
