داونگیرے میں سینئر بی جے پی لیڈر کے ایس ایشورپا کے حالیہ بیانات نے کرناٹک کی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ میڈیا سے گفتگو کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ بی جے پی کے کارکنان ان کی پارٹی میں واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں، تو ایشورپا نے واضح اشارہ دیا کہ بی جے پی میں واپسی کا خیال ان کے ذہن میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات میرے ذہن میں بھی ہے اور بسناگوڈا پاٹل یتنال کے ذہن میں بھی۔ ہم پرانی باتوں کو بھلا کر بی جے پی میں واپس آنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔
ایشورپا نے دو ٹوک انداز میں ہندوتوا سے اپنی وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ“اگر ہماری گردنیں بھی کاٹ دی جائیں، تب بھی ہم ہندوتوا کو چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ انہوں نے بی جے پی کو ہمیشہ کے لیے چھوڑنے کے ارادے سے علیحدگی اختیار نہیں کی تھی بلکہ پارٹی کے اندر ضروری اصلاحات کے لیے یہ قدم اٹھایا تھا۔ میں اس لیے باہر آیا ہوں کہ پارٹی میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ یہ تبدیلی آج نہیں تو کل ضرور آئے گی۔ آج بھی بی جے پی کے بہت سے کارکن اندر ہی اندر درد محسوس کر رہے ہیں، لیکن مجھے یقین ہے کہ بی جے پی آئندہ دنوں میں ایک بہتر شکل میں واپس آئے گی۔
