سوگوار: محمد عطاء الرحمن القاسمی،شیموگہ
اللہ اللہ یہ دنیا سے کون رخصت ہوا ؟ یہ کس مرد مومن نے آنکھ بند کرلی؟ یہ کون شخص ہے جو عالم برزخ کا مکین بنا ؟ یہ کون مرد مجاہد ہے جو اس عالمِ فانی سے عالمِ جاود انی کی طرف کوچ کرگیا ؟ یہ کون استاذ حاذق ہے جو اپنے ہزاروں شاگردوں کو روتا ، بلکتا اور سسکتا چھوڑ گیا ؟ یہ کون معلّم ہے جو ہمیشہ کیلئے درسگاہِ علومِ نبوت سے رخصت ہوا ؟ یہ کون منتظم ہے جس نے اپنا شفیق سایہ طالبانِ علوم نبوت کے سروں سے ہٹالیا ؟ یہ کون مہتمم ہے جس نے علومِ نبوت کی دانشگاہ کے دارالاہتمام کو اپنے وجود سے محروم کردیا ؟ یہ کون شریعت کا رازداں ہے جس نے دنیا سے اپنا رختِ سفر باندھ لیا ؟ یہ کون نسبی و علمی باپ ہے جو اپنی صلبی وروحانی اولاد کو اپنی سرپرستی سے محروم کرگیا ؟ یہ کون شریعت کا امیر ہے جو لاکھوں مسلمانوں کی نگہبانی سے ہمیشہ کیلئے تہی دامن ہوگیا ؟ یہ کون ترجمانِ دینِ متیں ہے جس نے نصف صدی سے زائد مدت تک قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کیں؟ یہ کون عوام و خواص کا چہیتا ہے جو ہم تمام کو داغِ مفارقت دے گیا ؟ یہ کون اخلاقِ کریمانہ ومزاجِ مشفقانہ اور ذوقِ تحمّلانہ کا روادار تھا جو ہمیں چھوڑ گیا؟ تو ہم تمام کا یہ جواب ہیکہ یہ بے مثال عالم اور باکمال استاذ امیر شریعت کرناٹک حضرت مولانا صغیر احمد صاحب کی ذاتِ گرامی ہے ۔
حضرت مرحوم کی تعلیم وفراغت:
حضرت مرحوم نے ابتدا سے انتہا تک اپنی مادرِ علمی دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور ہی میں تعلیم حاصل کی ، آپ کے اساتذہ میں وقت کے نامور علماء ، معروف قراء اور اصحابِ علم و فضل شامل ہیں ، بانیٔ دارالعلوم سبیل الرشاد امیر شریعت اول حضرت اقدس مولانا ابوالسعود احمد صاحب قدس سرہ بھی آپ کے استاد تھے ، زبانِ فارسی اور علومِ شرعیہ پر مکمل مہارت رکھنے والے مثالی استاذ کمالی صاحب مرحوم اور فنِّ قرأت میں ماہر و مشہور قاری حضرت مولاناقاری انعام الحسن القاسمی میرٹھی بھی آپ کے اساتذہ میں سے تھے ، ان کے علاوہ علوم و فنون میں مہارت رکھنے والے نابغہ ٔ روزگار علماء و فضلاء آپ کے اساتذہ میں تھے۔ دوسری جانب آپ کے ہم عصروں اور ساتھیوں میں بھی ایک سے ایک باصلاحیت اور مشہور علماء و فضلاء میں شامل تھے ، جن میں ہمارے صوبۂ کرناٹک کی ممتاز شخصیت حضرت مولانا ریاض الرحمان صاحب رشادی مرحوم ،اسی طرح مشہور عالم وفاضل دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور کے سابق استاذ حضرت مولانا شمس الدین صاحب رشادی مرحوم بانی مدرسہ دار البلاغ پینیا بنگلور اور ممتاز و باصلاحیت عالم و فاضل مرحوم مولانا محمد اسماعیل رحمانی ( گورنٹلہ ) سابق شیخ الحدیث مدرسہ ندوۃ الابرار بنگلور وغیرہ آپ کے درسی ساتھی اور ہم زمانہ دوستوں میں سے تھے۔حضرت مرحوم دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور کے قدیم اور پہلے فضلاء و فارغین میں سے تھے ، اس طرح مادر علمی سے آپ کا تعلق ایک طالبعلم سے لیکر مدرس اور مہتمم اور امیر شریعت تک رہا، تعلیم سے فراغت کے بعد ہی سے آپ دارالعلوم سبیل الرشاد میں مدرس بنادئے گئے ، مکمل نصف صدی سے زائد عرصے تک اسی ادارے میں سارے علوم وفنون کی کتابیں پڑھائیں ،یہاں تک کہ امیر شریعت ثانی حضرت مولانا مفتی اشرف علی صاحب نوراللہ مرقدہ کی وفات کے بعد حدیث کی سب سے اونچی اور اہم کتاب بخاری شریف بھی آپ ہی کے ذمہ کردی گئی ، ساری عمر اسی ادارے سے منسلک رہے یہاں تک کہ اسی کے زمینی احاطے میں سپردِ خاک
ہوگئے ، ہزاروں شاگردوں ، معتقدوں متعلقوں اور چاہنے والوں نے پر نم آنکھوں اور اشک بار آنسوؤں کے ساتھ راہِ خدا کے اس مسافر کو سفرِ آخرت کی آخری منزل تک پہنچایا ،انّا للہ وانّا الیہ راجعون ۔
مرحوم بحیثیت امیر شریعت کرناٹک :۔
آپ کی علمی صلاحیت آپ کے سنجیدہ مزاج ، آپ کے اخلاق وکردار کی بلندی ، آپ کی حکمت و دانائی اور آپ کے متحملانہ و منصفانہ مزاج کے باعث حضرت مولانا مفتی اشرف علی صاحب رحمہ اللہ امیر شریعت ثانی کے بعد آپ کو تیسرا امیر شریعت منتخب کیا گیا ،آپ کرناٹک کے تیسرے امیر شریعت کی حیثیت سے اس میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں ، ہر ضلع میں دارالقضاء قائم کئے ، جہاں پہلے امارتِ شرعیہ کرناٹک کے تحت دارالقضاء قائم تھے ان کو مزید منظم و مستحکم کیا اور ان کی سرپرستی کی ، اختلاف و انتشار سے کوسوں دور رہتے ، مثبت پہلو پر آپ کی نظر رہتی ، آپ شرافت کا مجسمہ تھے ، علمی و اخلاقی رعب و دبدبہ سے سرشار تھے ، داد ودہش ، فیّاضی و مہمان نوازی میں آگے تھے ، اسی کو ایک مشہور شاعر اور خدا ترس ولی ٔ کامل نے ایسے خداکے مقبول بندوں کے متعلق کہا ہے ،
امیرِ شرع و منہاجِ شریعت بعدش برخصیماں ابرِ رحمت
برای صائب و سنجیدہ اخلاق باتفاق و بایقان و با رفاق
بطبعِ لیّن و با قلبِ ھیّن بعزمِ راسخ و با جزمِ بیّن
اللہ تعالیٰ کا بڑا ہی فضل وکرم ہے کہ راقم الحروف کو آپ کی شاگردی کا شرف حاصل ہے ، 1982ء میں تین مہینے میں نے دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور میں تعلیم حاصل کی ہے اس دوران دو کتابیں حضرت مرحوم سے پڑھنے کا اتفاق ہوا ، بڑی ہی شفقت فرماتے ، رافت و لینت اور بڑی ہی مہربانی اور ہمدردی فرماتے ، اسی وقت آپ کا شمار دارالعلوم سبیل الرشاد کے بڑے اساتذہ میں تھا۔ اسی طرح حضرت مولانا ابوالسعود احمد صاحب قدس سرہ کے صاحب زادے عالمی شہرت یافتہ قاری ، جنہیں پانچ منٹ قرأت پڑھنے کا موقع دارالعلوم دیوبند کے اجلاس صدسالہ میں دیا گیا تھا جن کا نامِ نامی اور اسمِ گرامی حضرت مولانا قاری امداد اللہ انجم رشادی ہے ، آپ سے بھی تین ماہ مجھے قرأت کی مشق کرنے کا موقع ملا تھا ، بڑے ہی خوش لحان و مسحور کن آواز و انداز سے قرأت کی مشق کرواتے ، آج بھی وہ روحانی منظر میری نگاہوں میں ہے، اللہ تعالیٰ حضرت قاری صاحب کو بھی غریقِ رحمت کرے ، آمین ۔
مدرسہ زینبیہ میں سالانہ امتحان کا معمول :۔
آپ کا معمول سال میں ایک مرتبہ مدرسہ زینبیہ قادریہ یشونت پور میں سالانہ امتحان ماہ شعبان میں لینے کارہا اور یہ مدرسہ میرے بہنوی مرحوم حافظ وقاری نظام الدین صاحب کی سرپرستی میں چلتا تھا اور بنگلور کے مشہور و ممتاز مکاتب میں اس کا شمار ہے ، اس مکتب کی خصوصیت یہ ہے کہ جس سال یہ مدرسہ قائم ہوا اسی سال سے امیر شریعت اول حضرت اقدس مولانا ابوالسعود احمد صاحب قدس سرہ تاحیات اپنے چند اساتذہ کے ساتھ سالانہ امتحان لینے کیلئے تشریف لاتے اور ہمیشہ اس مکتب کی صحیح اور پختہ قرآن مجید کی تعلیم سے خوش ہوکر فرماتے کہ،، اس طرح کی تعلیم تو ہمارے مدارس میں بھی نہیں ہوتی لہذا ہمارے مدارس میں بھی اسی طرح توجہ دینا چاہئے،ان کی وفات کے بعد امیر شریعت ثانی حضرت مولانا مفتی اشرف علی صاحب رحمہ اللہ ہر سال امتحان لینے کیلئے تشریف لاتے ، پھر مفتی صاحب کی وفات کے بعد حضرت مرحوم امیر شریعت ثالث کا معمول ہر سال شعبان میں امتحان لینے کا رہا ہے ، اس موقع پر میں بھی اپنی بہن کے یہاں مدرسہ زینبیہ پہنچ جاتا اس لالچ و طمع سے کہ حضرت مرحوم سے جی بھر کے ملاقات ہوجائے اور حضرت کی صحبت میں رہنے کاموقع میسرآجائے ، یہ میری سال بھر میں حضرت مرحوم سے بہت تفصیلی ملاقات رہتی ، یعنی فجر کے بعد سے بارہ بجے تک حضرت مدرسہ زینبیہ میں اپنے اساتذہ کے ساتھ امتحان لینے میں مشغول رہتے اور ہماری بہن کے گھر ہی حضرت کے ناشتے کانظم رہتا ، میرے بھانجے حافظ قاری شکیل احمد موجودہ صدر مدرس مدرسہ زینبیہ کی محنت اور توجہ پر حضرت بہت خوش ہوتے اور دعائیں دیتے ، حافظ شکیل احمداوربھانجی سمیہ نشاط کا نکاح بھی حضرت مرحوم نے ہی پڑھایاتھا ، ہمارے گھرانے کے ساتھ اس طرح کا مضبوط تعلق حضرت مرحوم سے رہا ہے ،اللہ تعالیٰ سے دست بہ دعا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مرحوم حضرت الاستاذ وامیر شریعت ثالث کرناٹک حضرت الاستاذ مولانا صغیر احمد صاحب رشادی کو بلند درجات عطا فرمائے ، انکی غیر معمولی دینی، تعلیمی ، ملّی ، رفاہی، سماجی خدمات کو قبول فرمائے ، فردوسِ بریں میں ان کو اعلیٰ مقام عطا فرمائے ، تاقیامِ قیامت ان کی مرقد پہ بارانِ رحمت کا نزول فرمائے ،ان کے اہل وعیال اولاد و احفاد ، اقربا و اعزا ، متعلقین ومنتسبین اور آپ کے ہزاروں شاگردوں کو صبر و استقامت کی دولت سے سرفرازی عطا فرمائے آمین برحمتک یا ارحم الراحمین والحمد للہ رب العالمین ۔
