تعلیم کسی بھی سماج کی فکری بنیاد، اخلاقی تربیت اور معاشی ترقی کا ایک مضبوط ستون سمجھی جاتی ہے۔ یہ محض روزگار کے حصول کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانی شعور کی بیداری، سماجی ہم آہنگی اور جمہوری اقدار کے فروغ کا مؤثر وسیلہ بھی ہے۔ کسی بھی ملک کی ترقی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں تعلیم تک رسائی کس حد تک منصفانہ، مساوی اور غیر جانب دار ہے۔ ہندوستان جیسے کثیر مذہبی، کثیر لسانی اور کثیر تہذیبی ملک میں تعلیم کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہی وہ شعبہ ہے جہاں مختلف شناختیں باہم مل کر مشترکہ قومی شعور تشکیل دے سکتی ہیں۔ تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ حالیہ برسوں میں تعلیم کا شعبہ بھی سماجی تقسیم کے اثرات سے مکمل طور پر محفوظ نہیں رہا، اور بعض مواقع پر تعلیمی معاملات تنازع کا شکار ہوتے دکھائی دیے ہیں۔
آئینِ ہند مساوات، انصاف اور غیر امتیازی سلوک کے اصولوں کے تحت تمام شہریوں کو یکساں حقوق فراہم کرتا ہے۔ آئینی روح کا تقاضا ہے کہ ریاست مذہب، ذات، زبان یا شناخت کی بنیاد پر کسی قسم کا امتیاز نہ کرے اور عوامی ادارے مکمل غیر جانب داری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں۔ تعلیمی اداروں کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ میرٹ، اہلیت اور قانون کو واحد معیار بنائیں۔ لیکن جب تعلیمی فیصلے ان اصولوں کے بجائے دیگر دباؤ یا عوامل کے زیرِ اثر آنے لگیں تو اس کا اثر براہِ راست سماج کے کمزور اور پسماندہ طبقات پر پڑتا ہے، جن کے لیے تعلیم تک رسائی پہلے ہی محدود ہوتی ہے۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران بعض ایسے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں تعلیمی اداروں، خصوصاً پیشہ ورانہ اور اعلیٰ تعلیم کے مراکز، کے حوالے سے تنازعات سامنے آئے۔ کہیں داخلہ پالیسیوں پر سوال اٹھائے گئے، کہیں نصاب پر اختلاف ظاہر کیا گیا اور کہیں انتظامی فیصلوں پر اعتراض کیا گیا۔ ان معاملات میں تشویش کی بات یہ رہی کہ بعض اوقات بحث کا محور تعلیمی معیار یا قانونی تقاضوں کے بجائے طلبہ کی سماجی یا مذہبی شناخت بن گئی، جس سے تعلیم کے غیر جانب دار کردار پر سوالات پیدا ہوئے۔
اسی تناظر میں کشمیر میں واقع ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج کی بندش کا معاملہ ایک نہایت سنگین اور علامتی مثال کے طور پر سامنے آیا، جس نے نہ صرف ملک کے مختلف حلقوں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش کو جنم دیا۔ بین الاقوامی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق نومبر میں شروع ہونے والے پانچ سالہ ایم بی بی ایس پروگرام کے پہلے بیچ میں مجموعی طور پر پچاس طلبہ نے داخلہ لیا تھا، جن میں بیالیس مسلمان، سات ہندو اور ایک سکھ طالب علم شامل تھا۔ ان میں مسلمان طلبہ کی اکثریت کا تعلق کشمیر سے بتایا گیا۔رپورٹس کے مطابق جب یہ بات منظرِ عام پر آئی کہ داخلہ لینے والے طلبہ میں مسلمانوں کی تعداد نمایاں ہے تو کالج کے حوالے سے مختلف سطحوں پر ردِعمل دیکھنے میں آیا۔ بعد ازاں بعض انتظامی اور دیگر عوامل کی بنیاد پر کالج کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں زیرِ تعلیم طلبہ کا تعلیمی مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو گیا۔
اس فیصلے پر مختلف آراء سامنے آئیں۔ بعض حلقوں نے اسے انتظامی اقدام قرار دیا، جبکہ بعض مبصرین کے نزدیک اس کے سماجی اثرات زیادہ گہرے تھے۔ تشویش اس بات پر ظاہر کی گئی کہ اگر تعلیمی اداروں کے فیصلوں کو طلبہ کی مذہبی شناخت سے جوڑا جانے لگے تو اس سے آئینی اصولوں، تعلیمی آزادی اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ میرٹ کی بنیاد پر داخلہ حاصل کرنے والے طلبہ کے تعلیمی تسلسل کا متاثر ہونا کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے ایک سنجیدہ مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔
اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف قسم کے ردِ عمل دیکھنے میں آئے، جن میں بعض غیر ذمہ دارانہ تبصروں نے فضا کو مزید حساس بنا دیا۔ ایسے ردِ عمل اس خدشے کو تقویت دیتے ہیں کہ تعلیمی معاملات کو سماجی تقسیم کے تناظر میں دیکھا جانے لگا ہے، جو کسی بھی صحت مند سماج کے لیے مناسب نہیں۔
یہ صورتحال مجموعی طور پر اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ تعلیم جیسے حساس اور بنیادی شعبے کو سماجی کشیدگی سے محفوظ رکھنا نہایت ضروری ہے۔ بعض سماجی طبقات پہلے ہی معاشی مسائل، وسائل کی کمی اور دیگر رکاوٹوں کے سبب تعلیمی میدان میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اگر ان کے لیے دستیاب مواقع بھی غیر یقینی کا شکار ہو جائیں تو یہ مسئلہ مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار اور مختلف مطالعات سے یہ بات سامنے آتی رہی ہے کہ بعض طبقات خصوصا مسلمان تعلیم کے مختلف مراحل میں قومی اوسط سے پیچھے ہیں۔ غربت، معیاری تعلیمی اداروں تک محدود رسائی، اور سماجی عدم تحفظ جیسے عوامل اس پسماندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سرکاری اسکولوں کی کمزور حالت اور نجی اداروں کی بڑھتی ہوئی فیسیں غریب اور متوسط طبقے کے لیے تعلیم کو مزید مشکل بنا دیتی ہیں۔
تعلیمی اداروں میں عدم تحفظ کا احساس کسی بھی طالب علم کی ذہنی اور تعلیمی نشوونما پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ اگر طلبہ خود کو تعلیمی ماحول میں غیر محفوظ یا غیر مطمئن محسوس کریں تو ان کی صلاحیتیں پوری طرح سامنے نہیں آ سکتیں۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم کو ہر قسم کے تعصب اور غیر ضروری تنازعات سے پاک رکھنا نہایت اہم ہے۔تعلیم کو سماجی یا سیاسی کشمکش کا میدان بنا دینا دراصل ملک کے اجتماعی مستقبل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں تعلیمی ادارے عدم استحکام کا شکار ہوں، وہاں نہ سماجی ہم آہنگی مضبوط ہو سکتی ہے اور نہ ہی علمی ترقی ممکن ہے۔ پسماندگی کا تسلسل اکثر ایسے ہی رویوں کا نتیجہ ہوتا ہے، جہاں مواقع محدود ہو جاتے ہیں اور کامیابیوں کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ تعلیم کو ہر قسم کے دباؤ سے آزاد رکھے اور آئینی اصولوں پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائے۔ تعلیمی ترقی کو کسی ایک طبقے کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی ضرورت سمجھا جانا چاہیے، کیونکہ اگر آبادی کا بڑا حصہ تعلیمی طور پر پیچھے رہ جائے تو مجموعی ترقی متاثر ہوتی ہے۔اس لئے تعلیم کو مذہب، سیاست اور نفرت سے بالاتر رکھنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اگر ہندوستان کو ایک مضبوط، جمہوری اور ترقی یافتہ ملک بنانا ہے تو تعلیم کو مشترکہ قومی سرمایہ سمجھنا ہوگا، نہ کہ کسی ایک شناخت سے جوڑ کر دیکھنا۔ بصورتِ دیگر، تعلیمی اداروں سے جڑے فیصلوں کے منفی اثرات پورے سماج کو متاثر کر سکتے ہیں۔
(مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ادارہ)
فرقہ واریت کی زد میں تعلیم اور مسلمانوں کا غیر محفوظ مستقبل
شمس آغازایڈیٹر،دی کوریج
