نیشنل ہائی وے-66 پر کمبلے اریکاڈی میں ٹول وصولی کے خلاف احتجاج بدھ کی رات پرتشدد ہو گیا، مظاہرین نے ٹول گیٹ کے کیمروں کی توڑ پھوڑ کی اور شیشوں کو بھی نقصان پہنچایا۔ ایک ہزار سے زائد مظاہرین جنہوں نے کمبلے شہر سے احتجاج کی حمایت میں مارچ کیا، مبینہ طور پر ٹول گیٹ کے کیمروں کو توڑ دیا، دفتر کے شیشے کو نقصان پہنچایا، گاڑیوں کو روکنے کے لیے استعمال ہونے والے ٹول بوتھس کے ہینڈل توڑدیئے اور سکینرز پر سیاہ اسٹیکرز چسپاں کر دیے۔
صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے پولیس کی اضافی نفری موقع پر پہنچائی گئی۔ نوجوانوں کی مختلف تنظیموں نے احتجاجی مارچ کیا، پولیس نے ان مظاہرین کو روک دیا جنہوں نے ٹول آفس میں گھسنے کی کوشش کی۔ احتجاج کے پیش نظر پولیس نے پیر سے ہی ٹول گیٹ پر سیکورٹی فراہم کر رکھی تھی۔ اس کے باوجود بدھ کی شب نکالی گئی احتجاجی ریلی میں ایک ہزار سے زائد مظاہرین نے شرکت کی جس سے پولیس کے لیے حالات پر قابو پانا مشکل ہو گیا۔ اس واقعے کے بعد مبینہ طور پر گاڑیاں ٹول چارجز ادا کیے بغیر ٹول گیٹ سے گزر رہی ہیں۔
اس سے منجیشور کے ایم ایل اے اے کے ایم اشرف کی قیادت میں ٹول وصولی کے خلاف غیر معینہ مدت کے احتجاج کے پس منظر میں ضلع کلکٹر کے انبا شیکھر کی قیادت میں بدھ کی شام منعقدہ میٹنگ بغیر کسی فیصلے کے ختم ہوگئی۔ آخر کار اس بات پر اتفاق ہوا کہ جاری قانون ساز اسمبلی اجلاس کے دوران ریاست کے چیف سکریٹری کی موجودگی میں اس مسئلہ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اور فیصلہ لیا جائے گا۔ تاہم چونکہ یہ معاملہ ہائی کورٹ میں زیر غور ہے، ایم ایل اے اشرف نے اصرار کیا کہ حتمی فیصلہ ہونے تک ٹول وصولی کو روک دیا جائے۔
پیر کی صبح سے ٹول وصولی کے خلاف احتجاج جاری ہے، منجیشور کے ایم ایل اے اے کے ایم اشرف نے غیر معینہ مدت تک احتجاج کیا۔ مختلف سیاسی جماعتوں اور تنظیموں نے احتجاجی مظاہرے کی حمایت کی ہے اور احتجاج کے مقام تک مارچ کیا ہے۔ دریں اثناء بدھ کی رات نوجوانوں کی تنظیموں کی جانب سے نکالی گئی احتجاجی ریلی نے شدید رخ اختیار کر لیا۔ احتجاجی کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ جب تک ٹول وصولی مکمل طور پر واپس نہیں لی جاتی احتجاج جاری رہے گا۔
