چھترپتی سمبھاجی نگر: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسدالدین اویسی نے پیر کی شب میونسپل انتخابات کی انتخابی مہم کے دوران بی جے پی اور مہایوتی اتحاد پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ملک میں ہندوتوا ایجنڈا مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور مسلمانوں کو صرف مذہب کی بنیاد پر ’’بنگلہ دیشی‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اویسی نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کو شہریوں کی قومیت پر سوال اٹھانے کا اختیار دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’آج آپ سے پوچھا جا رہا ہے کہ کیا آپ اس ملک کے شہری ہیں یا نہیں، صرف اس لیے کہ آپ مسلمان ہیں۔‘‘ او یسی نے بی جے پی پر دوہرا معیار اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ہندو مندروں میں صرف ہندوؤں کو رکنیت دی جاتی ہے اور مسلم مذہبی اداروں میں صرف مسلمانوں کو، مگر اب ایک نیا قانون لا کر غیر مسلموں کو مسلم مذہبی اداروں میں رکن بنانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
انہوں نے ووٹر لسٹ کی اسپیشل انٹینسو ریویژن (ایس آئی آر) پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ اس عمل کو شہریوں کو ہراساں کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اویسی کے مطابق گوا میں ایک سابق رکنِ اسمبلی سے ہندوستانی شہریت کا ثبوت مانگا گیا، جو اس عمل کے غلط استعمال کی مثال ہے۔ او یسی نے مسلمانوں سے اتحاد کی اپیل کرتے ہوئے کہا، ’’ہم ان لوگوں کو ووٹ نہیں دے سکتے جو ہماری مساجد اور درگاہیں چھین لیتے ہیں۔‘‘ انہوں نے عوام سے مجلس کے تمام امیدواروں کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ اورنگ آباد (چھترپتی سمبھاجی نگر) میں ان کی پارٹی کی پوزیشن کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، مگر ایم آئی ایم اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ پارٹی ٹکٹ نہ ملنے پر ناراض کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے اویسی نے یقین دہانی کرائی کہ انہیں تنظیم میں مناسب ذمہ داریاں دی جائیں گی۔
