ہندوستان میں ۲۰۲۵ء کے دوران ۵۰؍ سے زائد مسلمانوں کا ماورائے عدالت قتل: ساؤتھ ایشیا جسٹس کیمپین

ہندوستان میں انسانی حقوق کیلئے سرگرم تنظیم ’ساؤتھ ایشیا جسٹس کیمپین‘ (ایس اے جے سی) کی جانب سے جاری کئے گئے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، ملک میں گزشتہ سال ۲۰۲۵ء کے دوران ۵۰؍ سے زائد مسلمانوں کے ماورائے عدالت قتل کے واقعات رپورٹ کئے گئےہیں۔ ان میں ریاستی سیکوریٹی فورسیز کے ہاتھوں ۲۳ ؍ ہلاکتیں اور ہندوانتہاپسندوں کے تشدد سے منسلک ۲۷ ؍ ہلاکتیں شامل ہیں۔ ایس اے جے سی کے ’انڈیا پروسیکیوشن ٹریکر‘ (India Persecution Tracker) میں ملک میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کے واقعات کو تفصیل سے ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ان میں ملک بھر میں مسلمانوں کو درپیش تشدد، من مانی گرفتاریوں، دورانِ حراست اموات اور انسانی حقوق کی دیگر خلاف ورزیوں کے واقعات شامل ہیں۔ مہلوکین میں پولیس، مسلح افواج یا دیگر ریاستی عناصر کے ہاتھوں ہلاک ہونے والوں میں دومسلمان بچے بھی شامل ہیں۔ گروپ نے ایسے دو واقعات بھی ریکارڈ کئے جن میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مبینہ ہراسانی اور تشدد کے بعد مسلمانوں نے خودکشی کرلی۔

ریاستی فورسیز کے ہاتھوں سب سے زیادہ ہلاکتیں جموں و کشمیر میں رپورٹ کی گئیں۔ شمالی ریاست میں سیکوریٹی آپریشنز کے دوران کم از کم ۸؍ کشمیری مسلمان شہری ہلاک ہوئے۔ ایس اے جے سی نے ان معاملات میں دورانِ حراست تشدد، جبری گمشدگیوں، جعلی ’’تصادم‘‘ اور منظم طریقے سے حقائق چھپانے کے الزامات کا حوالہ دیا ہے۔ اتر پردیش میں ۲۰۲۵ء  کے دوران پولیس کے ساتھ مبینہ ’’تصادم‘‘ میں کم از کم ۶؍ مسلمان ہلاک ہوئے، جن کی تصدیق ہوچکی ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نام نہاد ’’نصف انکاؤنٹر‘‘ کے فائرنگ کے واقعات میں درجنوں افراد شدید زخمی ہوئے، جہاں متاثرین بچ تو گئے لیکن مستقل طور پر معذور ہوگئے۔ چار مختلف ریاستوں میں کم از کم ۵؍ دیگر مسلمان پولیس کی تحویل یا زیرِ حراست رہنے کے فوراً بعد ہلاک ہوئے، جن کے خاندانوں نے ان کے ساتھ تشدد اور انہیں طبی امداد فراہم نہ کرنے کے الزامات لگائے ہیں۔ 

رپورٹ میں بچوں پر تشدد کے واقعات کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔ مارچ میں راجستھان میں پولیس چھاپے کے دوران ڈیڑھ ماہ کا مسلمان شیر خوار بچہ کچل کر ہلاک کر دیا گیا۔ نومبر میں دہلی میں شادی کی ایک تقریب کے دوران سی آئی ایس ایف کے ایک چھٹی پر موجود کانسٹیبل نے ۱۴؍ سالہ لڑکے ساحل انصاری کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔ رپورٹ میں ہندو انتہاپسندوں سے منسوب ۲۷؍ ہلاکتوں میں سے ۹؍ ہلاکتیں گئورکشکوں کے تشدد یا مویشی چوری کے الزامات سے جڑی ہوئی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق، کم از کم ۵؍ متاثرین کو ’’بنگلہ دیشی‘‘ یا ’’غیر قانونی تارکینِ وطن‘‘ قرار دینے کے بعد جان لیوا تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ ہلاکتیں، بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو نشانہ بنانے والی مہم کا حصہ معلوم ہوتی ہیں۔

ایس اے جے سی نے ۱۳؍ ریاستوں میں مسلمانوں کے خلاف ہدف شدہ اجتماعی تشدد کے ۲۶؍ واقعات اور نفرت پر مبنی انفرادی نوعیت کے سیکڑوں جرائم کو بھی درج کیا ہے۔ تازہ اعدادوشمار کا گزشتہ برسوں کے اعدادوشمار کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے گروپ نے نوٹ کیا کہ ریاستی عناصر کے ہاتھوں اس طرح کے ماورائے عدالت قتل کے واقعات ۲۰۲۴ء میں ۲۱؍ اور ۲۰۲۳ء میں ۲۰؍ واقعات ریکارڈ کئے گئے تھے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ’’۲۰۲۶ء کے آغاز کے ساتھ ہی ملک میں مذہبی اقلیتوں کا استحصال ایک خطرناک نیا معمول بن چکا ہے۔‘‘ گروپ کا کہنا ہے کہ آنے والے انتخابات اور سیاسی تقسیم اقلیتوں کے لئے خطرات میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔