جموں کے انتہا پسند عناصر کی نفرت نے میڈیکل کالج کو بند کرنے پر مجبور کیا: روح اللہ مہدی

گاندربل کے کنگن علاقے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی نے بتایا کہ جموں میں ایک چھوٹے ہندو گروہ نے ویشنو دیوی میڈیکل کالج کو بند کرنے پر مجبور کر دیا۔ وجہ یہ تھی کہ پہلے ایم بی بی ایس بیچ کے 50 طلبہ میں سے 42 مسلم، 7 ہندو اور ایک سکھ تھے۔ مہدی نے کہا کہ یہ انتہا پسندی کی مذموم حرکت ہے جو تعلیم کو نشانہ بنا رہی ہے۔

جموں کی اکثریت کی مخالفت اور وسیع تشریح
سرینگر ایم پی نے زور دیا کہ جموں صرف ایک ضلع نہیں بلکہ پورا پیر پنجال، چناب، ڈوڈہ، کشتواڑ، پونچھ، راجوری، کٹھوعہ اور ادھم پور ہے۔ انتہا پسند عناصر پورے خطے کی نمائندگی نہیں کرتے اور اکثریت کسی تعلیمی ادارے کی بندش کی حامی نہیں۔ انہوں نے جموں کے علیحدہ ریاست کے مطالبے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کی شناخت دہائیوں سے مشترکہ ہے اور لداخ کے بغیر یہ نامکمل ہے۔

ریزرویشن پالیسی پر حکومتی تنقید اور احتجاج کی دھمکی
مہدی نے منتخب حکومت کی ریزرویشن رپورٹ کو لیفٹیننٹ گورنر کو بھیجنے کو ناکافی قرار دیا اور کہا کہ ایل جی کو فیصلہ کرنا ہوگا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو طلبہ کے ساتھ سڑکوں پر احتجاج کر کے مطالبات منوائے جائیں گے۔ یہ بیان مقامی سیاست میں اہم موڑ لا سکتا ہے۔