نئی دہلی: آوارہ کتوں کے معاملے پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے منگل کے روز مشاہدہ کیا کہ کتوں کے کاٹنے کے ہر واقعے، اس سے کسی بچے، بالغ، یا بوڑھے کمزور شخص کی موت یا چوٹ لگنے کے معاملے میں ریاستی حکومتوں کو بھاری معاوضہ ادا کرنا ہوگا۔
منگل کو جسٹس وکرم ناتھ، سندیپ مہتا اور این وی انجاریا پر مشتمل بنچ نے معاملے سماعت کے بعد زبانی طور پر مشاہدہ کیا کہ 75 برسوں سے ریاستوں نے آوارہ کتوں کی لعنت سے نمٹنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔
عدالت نے کہا کہ وہ ریاستی حکومتوں کو اس لاپرواہی کے لئے ذمہ دار ٹھہرانے چاہتی ہے اور کہا کہ “ہم اس کے لیے ان سے کام لیں گے۔”
جسٹس ناتھ نے مشاہدہ کیا کہ “کتے کے کاٹنے اور کسی بچے، بالغ، یا بوڑھے کمزور شخص کی موت یا چوٹ لگنے ہر ہر واقعے کے لیے ہم ریاستی حکومت کی طرف سے بھاری معاوضہ طے کر سکتے ہیں۔” سینئر ایڈوکیٹ مینیکا گروسوامی، جو جانوروں کی فلاح و بہبود کی ایک تنظیم کی نمائندگی کر رہی ہیں، نے کہا کہ “مائی لارڈز، ایسا کرنا چاہے، آپ کو بالکل کرنا چاہیے۔”
جسٹس ناتھ نے مزید کہا کہ “ان تمام لوگوں کی ذمہ داری اور جوابدہی ہے جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ کتوں کو کھانا کھلا رہے ہیں کہ ان کی حفاظت کریں، انہیں اپنے گھر لے جائیں، اپنے کیمپس کے اندر، اپنے گھر کے اندر رکھیں۔ وہ اِدھر اُدھر کیوں گندگی پھیلا رہے ہیں اور لوگوں کو خوفزدہ کر رہے ہیں۔ وہ لوگوں کو دوڑا رہے ہیں، کاٹ رہے ہیں اور اموات کا باعث بن رہے ہیں۔” جسٹس مہتا نے کہا۔
جسٹس ناتھ نے کہا کہ کتے کے کاٹنے کا اثر زندگی بھر رہتا ہے۔ وہیں گروسوامی نے کہا کہ انہیں بھی کتوں نے دو بار کاٹا ہے۔ جسٹس مہتا نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ جذبات اور خدشات صرف کتوں کے لیے رہ گئے ہیں۔
گروسوامی نے کہا کہ کتوں کی نس بندی اور بہتر سلوک کے طریقے کارگر ہوں گے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے نشاندہی کی کہ ریگولیٹرز اپنا کام کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
بنچ نے زبانی طور پر استفسار کیا کہ “جب ایک نو سالہ بچے کو آوارہ کتے مار ڈالتے ہیں تو اس کے لیے کس کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے؟ ان تنظیموں کو جو کتوں کو کھلا رہی ہیں؟” بنچ نے مزید استفسار کیا کہ کیا عدالت کو آنکھیں بند کرکے معاملات کو ایسے ہی چلنے دینا چاہئے؟
بنچ نے کہا کہ اس کے پاس مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتوں کے لیے سنگین سوالات ہیں، اور وہ بعد میں ان کے موقف کو سنے گی۔ عدالت نے یہ بھی سوال کیا کہ “جانوروں کی طرف سے انسانوں کو پہنچنے والے درد کا کیا ہوگا، اور اگر جانور انسانوں پر حملہ کریں تو کون ذمہ دار ہوگا؟”
