بنگلورو : کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے دار العلوم سبیل الرشاد پہنچ کرریاست کے امیرِ شریعت اور معروف دینی و تعلیمی ادارے دارالعلوم سبیل الرشاد کے مہتمم حضرت مولانا صغیر احمد خان رشادیؒ کا آخری دیدار کیا ہے اور ان کے متعلقین سے ملاقات کرکے انہیں صبراور ہمت سے کام لینے پر ابھارا۔
وزیر اعلیٰ نے منگل 13 جنوری 2026 کو بنگلورو میں واقع دارالعلوم سبیل الرشاد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مرحوم کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی، غم زدہ افراد سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ اس موقع پر کابینہ کے اراکین، کانگریس کے سینئر قائدین اور دیگر معزز شخصیات بھی ان کے ہمراہ موجود تھیں۔
اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ مولانا صغیر احمد خان رشادیؒ ایک عظیم مذہبی رہنما، مایہ ناز عالمِ دین اور باوقار ماہرِ تعلیم تھے، جن کی خدمات کو طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا رشادیؒ کی پوری زندگی علم کی اشاعت، اخلاقی تربیت اور روحانی اقدار کے فروغ کے لیے وقف رہی، اور ان کی دینی و تعلیمی خدمات نے معاشرے پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔
وزیر اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ مولانا رشادیؒ نے دارالعلوم سبیل الرشاد کے ذریعے نہ صرف مذہبی تعلیم کو فروغ دیا بلکہ سماجی ہم آہنگی اور فکری رہنمائی میں بھی نمایاں کردار ادا کیا، جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
مولانا صغیر احمد خان رشادیؒ کو ان کی علمی بصیرت، اخلاقی قیادت اور دینی و تعلیمی خدمات کے باعث ریاست بھر میں بے حد احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ امیرِ شریعتِ کرناٹک کی حیثیت سے انہوں نے مذہبی، سماجی اور تعلیمی رہنمائی میں نمایاں کردار ادا کیا۔
ان کے انتقال پر کرناٹک بھر میں دینی، سماجی اور سیاسی حلقوں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے ریاست کے مذہبی اور تعلیمی منظرنامے کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا ہے۔ مرحوم کی مغفرت اور ان کے اہلِ خانہ، طلبہ اور عقیدت مندوں کے لیے صبرِ جمیل کی دعائیں کی جا رہی ہیں۔
