مندر چندہ نہ دیا تو مسجد اور گھر جلا دیے، پولیس خاموش تماشائی؟

سنیچر کو تریپورہ کے اونا کوٹی ضلع کے کمارگھاٹ سب ڈویژن، سعیدرپار علاقے میں بھگوا شدت پسندوں کا گروہ ایک دکان پر مندر چندہ اکٹھا کرنے پہنچا۔ دکاندار علی نے بتایا کہ وہ پہلے ہی کچھ رقم دے چکے تھے اور جلد مزید دیں گے، مگر گروہ نے مطالبہ بڑھا دیا۔ انکار پر مار پیٹ کی، علی کو اسپتال پہنچایا گیا اور اس کے گھر کو آگ لگا دی۔ ’مکتوب میڈیا‘ کے مطابق یہ صبح کا واقعہ تھا، پولیس افسران موقع پر موجود تھے مگر مداخلت نہ کی۔

مقامی مولانا عبد المالک نے بتایا کہ حملہ آوروں نے 5-6 گھر، دکانیں، موٹر سائیکلیں، کاریں اور ایک ٹریکٹر تباہ کر دیا۔ سعیدرپار مسجد اور قبرستان کو بھی نذر آتش کر دیا گیا۔ تشدد میں پولیس اہلکار سمیت 10 افراد زخمی ہوئے۔ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اویناش کمار رائے نے اتوار کو حالات پرامن قرار دیا، نیم فوجی دستے فلیگ مارچ کر رہے ہیں اور 10 ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں۔ تاہم مقامیوں کا الزام ہے کہ پولیس نے خاموشی اختیار کی۔

کانگریس لیڈر بیراجیت سنہا نے تشدد کی شدید مذمت کی اور کہا کہ متاثرہ علاقے کا دورہ کرنے سے روک دیا گیا۔ یہ واقعہ مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والا قرار دیا جا رہا ہے۔ پولیس نے مزید واقعات سے انکار کیا مگر مقامی مسلمان خدشے میں ہیں۔ سرکار کی خاموشی پر سوالات اٹھ رہے ہیں، عدالتی کارروائی اور تحقیقات کا مطالبہ بڑھ رہا ہے۔

حالات کنٹرول میں ہیں مگر اعتماد بحال کرنا چیلنج ہے۔ گرفتار ملزمان سے پوچھ گچھ جاری، ویڈیو فوٹیج اور عینی شاہدین کے بیانات اکٹھے ہو رہے ہیں۔ یہ واقعہ شمال مشرقی ریاستوں میں بڑھتے مذہبی تناؤ کی عکاسی کرتا ہے، جہاں چندہ جیسے معمولی معاملے تشدد کا روپ دھار لیتے ہیں۔