گدگ ضلع کے تاریخی لکنڈی گاؤں میں ایک خاندان گھر کی توسیع کر رہا تھا کہ بنیاد کھودتے ہوئے 8ویں جماعت کے طالب علم کو تانبے کا برتن دکھا، جس میں 22 سونے کے زیورات جس میں ہار، چوڑیاں، بالیاں بھرے تھے۔ وزن تقریباً 470 گرام بتایا جارہا ہے جس کی جملہ مالیت 60-70 لاکھ روپے بتایا گیا۔ لڑکے نے ایمانداری سے گاؤں کے بڑوں کو اس سے آگاہ کرایاجنہوں نے فوراً پولیس، تحصیلدار اور ASI کو اطلاع دی۔ گدگ ایس پی روہن جگدیش نے بتایا کہ افسران موقع پر پہنچے، پنچنامہ کیا اور زیورات قبضہ میں لے لیے۔
آثار قدیمہ سروے آف انڈیا (ASI) کے دھارواڑ سرکل کے سپرنٹنڈنگ آرکیالوجسٹ رمیش ملمانی نے موقع کا معائنہ کیا اور کہا کہ یہ خزانہ نہیں، کیونکہ زیورات ٹوٹے پھوٹے تھے اور سکے نہیں ملے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں لوگ زیورات کچن کی چولہے والی جگہ کے قریب دفن کر دیتے تھے، یہ وہی معاملہ لگتا ہے۔ عمر کا تعین کرنے کے لیے مزید جانچ ہوگی، مگر یہ عام رواج تھا۔ زیورات کو تعمیراتی سائٹ سے ہٹا کر خزانے میں محفوظ رکھا گیا ہے۔
تاہم اب اس جگہ تعمیر رک گئی، اور جگہ کو سیل کردیا گیا ہے ، اب تفتیش سے فیصلہ ہوگا کہ خاندان کو یہ سونا واپس ملے گا یا پھرمعاوضہ ملے گا۔ چیف منسٹر سدارامیانے ہدایات دی ہے کہ ضلعی سطح پر اس کا جائزہ لیا جائے۔
بتادیں کہ لکنڈی اپنی فن تعمیر اور مندروں کی وجہ سے مشہور ہے۔
