شاکنگ فراڈ: ’ڈجیٹل گرفتاری,ڈاکٹر جوڑا 2 ہفتے قید,14کروڑ کی لوٹ

دہلی کے گریٹر کیلاش میں مقیم ایک  معمر ڈاکٹر جوڑے کو سائبر مجرموں نے ۲؍ ہفتے تک ’’ڈجیٹل اریسٹ‘‘  رکھ کر ۸۵ء۱۴؍ کروڑ روپے لوٹ لئے۔ واضح رہے کہ ’’ڈجیٹل اریسٹ ‘‘ نام کی کوئی گرفتاری نہیں ہوتی  بلکہ یہ آن لائن فراڈ کا طریقہ ہے۔اس میں دھوکہ باز خود کو پولیس، سی بی آئی، جج، یا کسی سرکاری ایجنسی کا افسر باور کراتے ہیںاور فون یا ویڈیو کال کے ذریعہ اپنے شکار کو یہ تاثر وہ اُن کی نگرانی میں  ’’ڈجیٹل اریسٹ‘‘ہیں۔   اپنے شکار کو عام طورپر وہ یہ کہہ کر ڈراتے ہیں کہ ان کے نام سے کسی جرم کا ارتکاب ہوا ہے،اس کے بعد وہ  متاثرہ شخص کو قانونی کارروائی سے رعایت دینے کے نام پر مختلف بینک کھاتوں میں   اس سے رقم منتقل کرواتے ہیں۔

گریٹر کیلاش  میں رہنےوالے ڈاکٹر جوڑے  کے ساتھ دھوکہ دہلی کی واردات ۲۴؍ دسمبر سے ۹؍ جنوری تک جاری رہی۔پولیس کے مطابق اس دوران ملزمین نے خود کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران  کے طور پر پیش کیا  اور معمر  جوڑے کو قانونی کارروائی سے ڈرا کر بینک کھاتوں میں بڑی رقم منتقل کرنے پر مجبور کیا۔ ۹؍ جنوری کو فراڈ کا سلسلہ ختم ہونے کے بعد سنیچر ۱۰؍ جنوری کو ای ایف آئی آر درج کی گئی جس کے بعد دہلی پولیس کی سائبر کرائم یونٹ نے تفتیش شروع کر دی ہے۔اپنے ساتھ کی گئی آن لائن ٹھگی کی تفصیل ڈاکٹر  اندرا تنیجا نے  فراہم کی۔ انہوں نے بتایا کہ۲۴؍دسمبرکی دوپہر کو مجھے ایک شخص کا فون آیا ۔ اس  نے خود کو ٹرائی (ٹیلی کوم ریگولیٹری اتھاریٹی آف انڈیا)کا اہلکار بتایا اور کہا کہ فحش کالز اور شکایات کی وجہ سے میرا نمبر بند کر دیا جائیگا۔‘‘

اِندرا تنیجا  کے مطابق فون کرنے والے نے ان پر منی لانڈرنگ کا الزام بھی لگایا اور دعویٰ کیا کہ مہاراشٹر میں ان کے خلاف ایف آئی آر درج ہو چکی ہے اور گرفتاری کے وارنٹ جاری ہو گئے ہیں۔  متاثرہ  نے بتایا کہ ’’اس کے بعد انہوں نے مجھے ویڈیو کال پر پولیس وردی میں ملبوس ایک شخص سے جوڑ دیا۔ ویڈیو کال میں پولیس کے بھیس میں موجود ٹھگوں کے پیچھے’قلابہ پولیس‘  لکھا ہوا تھا جس سے ہمیں ان کی بات  اور بھی زیادہ  یقین  ہوگیا۔‘‘ان کے مطابق  ویڈیو کال پر موجود شخص نے الزام لگایا کہ ان کے نام سے کینیرا بینک کا ایک اکاؤنٹ قومی سلامتی سے جڑے ایک بڑے فراڈ میں استعمال ہوا ہے۔

پولیس نے بتایا کہ فراڈ کا شکار ہونے والے میاں بیوی ڈاکٹر ہیں  ۲۰۱۶ء میں  امریکہ سے واپس آنے کے بعد  سے دہلی کےگریٹر کیلاش میں  رہتے ہیں۔ ان کے بچے  بیرونِ ملک مقیم ہیں جس کا بھر پور  فائدہ ٹھگی کرنے  والوں نے اٹھایا۔ شکایت کے سائبر ٹھگ  انہیں دھمکاتے رہے کئی دنوں تک مسلسل فون اور ویڈیو کال پر رہنے پر مجبور کیا۔

ٹھگوں کو جب یہ معلوم ہوا کہ انہوں نے جسے اپنا شکار بنایا ہےوہ امریکہ سے ہندوستان آئے ہیں تو اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چونکہ تم  یہ کہہ رہی ہو کہ تم امریکہ سے  ہندوستان کی خدمت کیلئے واپس آئی ہو  اس لیے یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ڈرایا کہ ’’ اگرتم  اس میں ملوث پائی گئی تو تمہیںممبئی  آنا ہوگا اور وہاں  تمہیںگرفتار کر لیا جائے گا۔‘‘تنیجا  جو مذکورہ ٹھگو ں کو حقیقی پولیس سمجھ رہی تھیں نے  بتایا کہ  ان کیلئے سفر ممکن نہیں کیونکہ ان کے شوہر ایمس میں آپریشن کے بعد  صحت یاب ہو رہے  ہیں۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے ٹھگوں کویہ بھی بتا دیا کہ ’’ہمارے ساتھ کوئی اور نہیں  ہے ، ہم یہ سب اکیلے کیسے سنبھال پائیں گے؟‘‘ ڈاکٹر تنیجا کے مطابق ممبئی کے سفر سے انکار  پر’’ انہوں نے کہا کہ وہ میری جانچ کرتے رہیں گے اور مجھے جلد رہا کر دیا جائے گا۔‘‘جوڑے کا کہنا ہے کہ اس دوران انہیں ہدایت دی گئی کہ وہ کسی سے رابطہ نہ کریں۔

پولیس کے مطابق فراڈ کا انکشاف اس وقت ہوا جب۹؍ جنوری کو اچانک فون آنا  بند ہوگیا ۔اس کے بعد مذکورہ جوڑے نے حکام سے رجوع کیا۔تنیجا نے بتایا کہ اپنی طبی حالت اور  پریشانی   بار بار بتانے کے باوجود  ٹھگوں نے اپنا دباؤ برقرار رکھا اورانہیں مختلف بینک کھاتوں  میں ۸۵ء۱۴؍ کروڑ روپے ٹرانسفر کرنے کیلئے کہاگیا۔ دہلی پولیس کے مطابق تفتیش جاری ہے اور اس فریب دہی  میں استعمال ہونے والے  بینک اکاؤنٹس اور ملوث افراد کا سراغ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔