بنگلور: شمالی بنگلور کے تھانیسندرا علاقے میں بنگلور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (بی ڈی اے) کی جانب سے مبینہ طور پر بغیر پیشگی اطلاع کے مکانات کی مسماری پر مسلم مذہبی اور کمیونٹی رہنماؤں نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ناانصافی اور غیر انسانی عمل قرار دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق تقریباً 22 مکانات مسمار کیے گئے، جس کے نتیجے میں متعدد خاندان بے گھر ہو گئے۔
اس واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جامعہ مسجد بنگلور کے امام و خطیب مولانا مفتی ڈاکٹر محمد مقصود عمران رشادی نے بتایا کہ وہ اچانک بلڈوزر کارروائی کی اطلاع ملنے پر تھانیسندرا کے قریب تھوبا لے آؤٹ پہنچے، جہاں متاثرہ خاندان شدید صدمے کی حالت میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم کمیونٹی متاثرین کے ساتھ مکمل یکجہتی رکھتی ہے اور مزید مسماری کو روکنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
مولانا رشادی نے کہا کہ “بنگلور میں اقلیتوں کے گھروں کے خلاف بلڈوزر کارروائی نے انسانیت کو شرمسار کر دیا ہے۔ بغیر کسی پیشگی اطلاع کے گھروں کو مسمار کرنا کھلا ظلم اور غیر انسانی عمل ہے جس نے متاثرہ خاندانوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ مسلم مذہبی اور سماجی رہنماؤں کے ایک وفد نے اس معاملے پر کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی، جہاں اس ناانصافی پر شدید تشویش اور ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ دار حکام کے خلاف سخت کارروائی اور بے گھر خاندانوں کی فوری بحالی اور بازآبادکاری کا مطالبہ کیا گیا۔
ادھر جماعت علماء کرناٹک کے صدر مفتی افتخار احمد قاسمی نے حکومت کے اس دعوے پر سوال اٹھایا کہ اسے کوگیلو اور تھوبا لے آؤٹ میں ہونے والی مسماریوں کی پیشگی اطلاع نہیں تھی۔ انہوں نے کہا، “اگر حکومت واقعی لاعلم تھی تو یہ ایک سنگین سوال ہے کہ آخر ریاست کی انتظامیہ کون چلا رہا ہے۔”
مفتی قاسمی نے کہا کہ اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کی حمایت سے بننے والی حکومت سے ایسی کارروائیوں کی توقع نہیں کی جا سکتی جو سابقہ فرقہ وارانہ حکومتوں کے طرزِ عمل کی یاد دلاتی ہوں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات عوام میں غصہ، بے چینی اور عدم اعتماد کو بڑھا رہے ہیں، اور مطالبہ کیا کہ قصوروار حکام کے خلاف فوری کارروائی اور متاثرہ خاندانوں کی منصفانہ بحالی کو یقینی بنایا جائے۔
قابل ذکر ہے کہ مسماری جمعرات کی صبح کی گئی، جس کے بارے میں بعد میں بی ڈی اے کے حکام نے بھی تسلیم کیا کہ متاثرہ رہائشیوں کو کوئی تحریری نوٹس جاری نہیں کیا گیا تھا۔ رہائشیوں کے مطابق حکام پولیس اور زمین ہٹانے والے عملے کے ساتھ صبح سات بجے پہنچے، فوری طور پر مکانات خالی کرنے کا حکم دیا اور مسماری شروع کر دی، حالانکہ کئی خاندانوں کے پاس ای-کھاتا سرٹیفکیٹس، بجلی کے کنکشن اور دیگر قانونی دستاویزات موجود تھیں۔
متعدد متاثرین، جن میں خواتین اور بیمار افراد بھی شامل ہیں، راتوں رات بے گھر ہو گئے۔ بعد ازاں بی ڈی اے کمشنر پی منیوانن نے تسلیم کیا کہ ایجنسی کی اسپیشل ٹاسک فورس سے ابتدائی سطح پر غلطی ہوئی اور اس بات کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں کہ رہائشیوں کو نوٹس دیے گئے ہوں۔
بی ڈی اے نے واقعے کے بعد بحالی کے اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا ہے اور ریٹائرڈ جسٹس نیاز احمد کو 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ تاہم کمیونٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ محض اعلانات کافی نہیں، بلکہ شفاف تحقیقات، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، بصورت دیگر محروم طبقات میں بداعتمادی مزید گہری ہو سکتی ہے۔
