ترکمان گیٹ معاملہ : پولس نے پتھراوکے الزام میں مزید تین مسلم نوجوانوں کو کرلیا گرفتار

نئی دہلی: پرانی دہلی کے ترکمان گیٹ پر واقع فیض الٰہی مسجد کے قریب غیر قانونی تجاوزات کو ہٹانے کے دوران ہوئے تشدد کے معاملے میں پولیس نے اپنی کارروائی تیز کردی ہے۔ سنیچر کو پولیس نے اس واقعے کے سلسلے میں مزید تین افراد کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار ملزمان کی شناخت محمد نوید، محمد فیض اور محمد عبید اللہ کے نام سے ہوئی ہے جو ترکمان گیٹ کے رہائشی ہیں۔ اس کے ساتھ اس معاملے میں اب تک کل 16 لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

پولیس کے مطابق تجاوزات ہٹانے کے دوران علاقے میں اچانک پتھراؤ اور تشدد کی صورت حال پیدا ہوگئی۔ انہدامی کارروائی کی مخالفت کرنے والوں نے پولیس اور میونسپل ٹیموں پر پتھراؤ کیا جس سے ماحول کشیدہ ہوگیا۔ صورت حال پر قابو پانے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی۔ پولیس نے واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے الگ الگ ٹیمیں تشکیل دے کر ملزمان کی شناخت شروع کر دی۔

تفتیش کے دوران پولیس ملزمین کی شناخت کے لیے سی سی ٹی وی کیمروں، جائے وقوع سے بنائی گئی ویڈیو فوٹیج، پولیس افسران کے ہیلمٹ پر لگے کیمروں، اور چہرے کی شناخت کے نظام کا استعمال کر رہی ہے۔ پولیس کے مطابق 50 سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے، اور ان کے کردار کی تفتیش کی جا رہی ہے۔

سڑکیں دوبارہ کھول دی گئیں

دریں اثنا، ترکمان گیٹ کا علاقہ چار دن کے بعد سنیچر کو مکمل طور پر کھول دیا گیا۔ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہدامی کارروائی کے بعد بند ہونے والی کئی سڑکیں اب دوبارہ کھول دی گئی ہیں۔ علاقے کے بازار بھی مکمل طور پر کھل گئے ہیں جس سے مقامی رہائشیوں کو راحت ملی ہے۔

دریں اثناء درگاہ فیض الٰہی کے اطراف سے ملبہ ہٹانے کا کام سنیچر کو بھی جاری رہا۔ پولیس اور انتظامیہ کی ٹیمیں صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تشدد میں ملوث کسی کو بھی نہیں بخشا جائے گا اور مزید گرفتاریوں سے بھی انکار نہیں کیا جا رہا ہے۔