مفتی فیاض احمد محمود برمارے حسینی
نیند انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ جس طرح خوراک اور ہوا کے بغیر جسم زندہ نہیں رہ سکتا، اسی طرح معتدل اور بروقت نیند کے بغیر ذہن، اعصاب اور جسمانی نظام متوازن نہیں رہ سکتا۔ فطرت نے انسان کے لیے رات کو آرام اور دن کو عمل کے لیے بنایا ہے۔ یہی توازن صحت، کارکردگی اور سکونِ قلب کی بنیاد ہے۔ جب یہ توازن بگڑتا ہے تو اس کے اثرات فرد کی ذات سے نکل کر پورے معاشرے تک پھیل جاتے ہیں لیکن ہمارے معاشرے میں ایک خاموش مگر گہری تبدیلی تیزی سے جڑ پکڑتی جا رہی ہے، اور وہ ہے رات بیداری کا معمول بن جانا۔ خاص طور پر نوجوان نسل میں دیر رات تک جاگنا اب وقتی شوق نہیں رہا بلکہ ایک مستقل عادت کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ یہ بیداری صرف گھروں سے باہر آوارہ گردی تک محدود نہیں بلکہ گھروں کے اندر بھی موبائل فون، سوشل میڈیا، ویڈیوز، گیمز اور دیگر لغویات کی صورت میں پوری رات نگل جاتی ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جس معاشرے میں کبھی جلد سونا اور فجر سے قبل بیدار ہونا نظمِ حیات سمجھا جاتا تھا، آج وہاں جلدی سونے کا تصور ہی اجنبی بنتا جا رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ صبح کی بیداری مشکل ہو چکی ہے، تعلیمی، پیشہ ورانہ اور گھریلو ذمہ داریاں متاثر ہو رہی ہیں، اور دن کا آغاز سستی، جھنجھلاہٹ اور بے دلی کے ساتھ ہوتا ہے۔
رات کے مقررہ وقت پر نہ سونے کے اثرات صرف وقتی تھکن تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ صحت کے لیے ایک خاموش زہراور متعدد بیماریوں کے اسباب ہیں ، نوجوان جو کبھی توانائی، تازگی اور عملی سرگرمی کی علامت سمجھے جاتے تھے، آج بے خوابی کے ہاتھوں خود اپنی صلاحیتوں سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔یہ مسئلہ صرف طبی یا سماجی نہیں بلکہ دینی نقطۂ نظر سے بھی نہایت تشویش ناک ہے۔ شریعتِ اسلامیہ کا مزاج عین فطرت کے مطابق ہے۔ جلد سونا، رات کو آرام کرنا اور صبح سویرے بیدار ہونا اسلامی طرزِ زندگی کا حصہ ہے۔ یہی وہ فطری اور شرعی توازن ہے جس پر ایک صحت مند فرد اور صالح معاشرہ تشکیل پاتا ہےبدقسمتی سے آج ہم اس توازن کو خود اپنے ہاتھوں سے بگاڑ رہے ہیں۔ والدین کی عدم توجہی، معاشرتی نگرانی کا فقدان اور ٹیکنالوجی کا بے لگام استعمال اس بگاڑ کو مزید گہرا کر رہا ہے۔ نوجوان نسل کو آزادی کے نام پر بے راہ روی کے حوالے کر دینا درحقیقت پورے معاشرے کے مستقبل کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس رویے کا سنجیدگی سے محاسبہ کیا جائے۔ والدین اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں، گھریلو معمولات کو منظم کریں، اور نوجوانوں میں وقت کی قدر، صحت کی اہمیت اور دینی مزاج کو اجاگر کریں۔ تعلیمی ادارے اور سماجی حلقے بھی اس حوالے سے بیداری پیدا کریں، اور خود نوجوان نسل کو یہ سمجھنا ہوگا کہ حقیقی آزادی نظمِ حیات میں ہے، نہ کہ بے مقصد بیداری میں.اگر ہم نے آج رات بیداری کی اس لت کو قابو میں نہ کیا تو کل ایک کمزور، تھکی ہوئی اور بے سمت نسل ہمارا مقدر ہوگی
