بھٹکل ( فکر و خبر نیوز) قرآن مجید یاد کرنا اور اس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنا عین کامیابی ہے۔ آج دنیا میں دولت کو سب کچھ سمجھا جارہا ہے لیکن قرآن اور علم دین کی دولت ہر چیز پر بھاری ہے۔ ان خیالات کا اظہار شہر کی قدیم قاضیا مسجد میں کل رات سن شائن اسپورٹس سینٹر کی طرف سے منعقدہ تکمیل حفظ قرآن کی بابر کت مجلس میں جامع مسجد بھٹکل کے امام و خطیب اور نائب مہتمم جامعہ اسلامیہ بھٹکل مولانا عبد العلیم ندوی نے کیا۔ یاد رہے کہ جامعہ اسلامیہ سے عالمیت کی تکمیل کے بعد شعبہ حفظ جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں حافظ ابو صالح الجی کے پاس حفظ مکمل کرنے والے مولوی حافظ احمد صدیق ندوی اور علی پبلک پی یو کالج کے طالب علم سلیم ابن حسن شہیر رکن الدین کو ان کی تکمیل حفظ پر تہنیت کرنے کے لیے یہ پروگرام منعقد کیا گیا تھا۔ دونوں حفاظ نے اس موقع پر اپنی تلاوت کے ذریعہ تکمیل قرآن کی مجلس شرکت کی سعادت حاصل کی۔مولانا نے دنیا کے موجودہ حالات میں مسلمانوں کی بے وقعتی پر گفتگو کرتے ہوئے اسے دین و شریعت سے دوری کا نتیجہ بتایا اور قرآن مجید کے ساتھ زندگی کا رشتہ استوار رکھنے کو سب سے بڑی کامیابی قرار دیا۔ اس سے پہلے اجلاس سے خطاب کر تے ہوئے جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے استاد اور جماعت المسلمین بھٹکل کے معاون سکریٹری مولوی سید احمد سالک برماور ندوی نے حافظ قرآن کے مقام و مرتبے پر اپنے خیالات کا ظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ عین خوش نصیبی ہے کہ اللہ نے اپنے کلام کی حفاظت کے لئے حافظ قرآن کے دل کو ذریعہ بنایا ہے۔ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب حافظ قرآن کے والدین کے سر پر تاج رکھا جائے گا تو جن کی وجہ سے والدین کو یہ اعزاز ملے گا تو بذات خود اس حافظ کا کیا مرتبہ ہوگا یہ تصور سے ماوراء ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ یا افراد یا قومیں ، ادارے یا تحریکات خود کو قرآن وابستہ کرتے ہیں وہ ہمیشہ ترقیوں کے بام عروج تک پہنچتے ہیں۔ دونوں مقررین نے حفاظ اور ان کے سرپرستوں اور اساتذہ سمیت جملہ متعلقین کو مبارکباد دیتے ہوئے قرآن کے پیغام کو دنیا بھر میں عام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ مولانا عبد العلیم ندوی کی دعا پر تواضع کے ساتھ جلسہ اختتام کو پہنچا۔ سن شائن اسپورٹس سینٹر کے تعلیمی سکریٹری سید اظہربرماور ندوی نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ اجلاس کا آغاز حافظ علی شریف کی تلاوت سے ہوا۔ یہ اجلاس شہر قدیم قاضیا مسجد میں بعد نماز عشاء منعقد کیا گیا جس میں سن شائن اسپورٹس کے صدر و جنرل سیکریٹری و اراکین کے انتظامیہ کے ذمہ داران و عام ممبران بڑی تعداد میں موجود تھے۔
