ولکی (فکرو خبر نیوز) جنوری: ولکی کی تاریخی جامع مسجد کی توسیع کے بعد تعمیرِ نو کی مناسبت سے “ہندوستانی مسلمانوں کے چیلنجز اور ان کے حل” کے عنوان سے ایک عظیم الشان جلسۂ عام کا انعقاد کیا گیا۔ یہ پروگرام کل یکم جنوری بروز جمعرات بعد نمازِ عشاء جامع مسجد ولکی کے احاطے میں منعقد ہوا، جس میں علماء، سماجی قائدین اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سیکرٹری مولانا فضل الرحیم مجددی نے نہایت فکر انگیز اور جامع خطاب کیا۔ مولانا نے ہندوستان کی تاریخ کے تناظر میں کہا کہ انگریزوں کے دورِ اقتدار سے ہی مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی رہی ہیں۔ آزادی کے بعد اگرچہ ایک سیکولر دستور نافذ کیا گیا جس میں ہر شہری کو مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی، تاہم افسوس کا مقام ہے کہ مسلمانوں کی اپنی غفلت اور بعض سیاسی حالات کے سبب آج بھی انہیں اپنے مذہبی معاملات میں آئے دن مشکلات کا سامنا ہے۔
مولانا نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں مسلمانوں کو اپنے دین پر مکمل عمل پیرا ہونے، اس کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنے اور آئینی حدود کے اندر اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے بیدار رہنے کی اشد ضرورت ہے۔
اسی جلسہ سے سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کرناٹک کے اہم ذمہ دار جناب عبدالمجید میسور نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے مسلمانوں کو درپیش چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمارا مخالف تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے، جبکہ ہم سست روی کا شکار ہیں، جس کے نتیجے میں مسلمان سماجی، تعلیمی اور سیاسی میدان میں پیچھے ہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے حالات کا جرات و حکمت کے ساتھ مقابلہ کرنے، اتحاد قائم رکھنے اور دین سے مضبوطی سے جڑے رہنے کی تلقین کی۔
پروگرام میں جماعت المسلمین ولکی کے جنرل سیکرٹری جناب احمد سکری نے ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی، جس میں ولکی کی تاریخی جامع مسجد کی تعمیر کے لیے اہلِ ولکی کی مشترکہ کوششوں کو سراہا گیا۔
مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل کے صدر جناب عنایت اللہ شاہ بندری نے خطاب کرتے ہوئے مسجد کے افتتاح کی مناسبت سے غیر مسلم برادرانِ وطن کو بھی جوڑنے کی ضرورت پر زور دیا اور “مسجد درشن” کے عنوان سے ایک تعارفی پروگرام منعقد کرنے کی تجویز پیش کی۔
جماعت المسلمین ولکی کے صدر جناب اسلم ولکی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ نظامت کے فرائض مولانا فیاض ندوی نے انجام دیے۔ آخر میں ڈاکٹر عبداللہ سکری اپنے صدارتی خطاب میں مولانا فضل الرحیم مجددی صاحب کے بیان پر تبصرے کرتے ان کے بیان کو ایک جامع اور فکر انگیز بیان قرار دیا، انہوں نے ہندوستان کے مسلمانوں کو اسپین کے حالات سے سبق سیکھنے پر بھی زور دیا۔
اس موقع پر مسجد کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والوں کا خصوصی شکریہ ادا کیا گیا اور مختلف تعمیراتی کاموں کی نگرانی اور اس میں عملی طور پر شرکت کرنے والوں کی تہنیت کی گئی۔دعائیہ کلمات پر یہ اجلاس عام اپنے اختتام کو پہنچا۔
