بنگلورو، 2 جنوری (فکروخبر) کرناٹک کے چار بڑے شہروں — بنگلورو، ہبلی-دھارواڑ، کلبرگی اور داونگیری — کو نیشنل کلین ایئر پروگرام (NCAP) کے تحت مقررہ فضائی معیار پر پورا نہ اترنے کے باعث ’نان اٹینمنٹ سٹیز‘ قرار دیا گیا ہے، جس سے عوامی صحت اور ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔مختلف ذرائع سے ڈائجی ورلڈ میں شائع خبر کے مطابق بنگلورو میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے حکومت نے دھواں ناپنے والی 12 موبائل گاڑیاں تعینات کی ہیں، جن میں سے 6 گاڑیاں فی الحال شہر میں فعال ہیں۔ یہ گاڑیاں جدید آلات سے لیس ہیں اور ٹرانسپورٹ محکمہ، پولیس، بی ایم ٹی سی اور کے ایس آر ٹی سی کے تعاون سے ان گاڑیوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہیں جو مقررہ حد سے زیادہ دھواں خارج کرتی ہیں۔ حکام کے مطابق قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔NCAP کے تحت ریاست کرناٹک میں اس وقت 43 دستی (مینول) اور 39 مسلسل (کنٹینیوس) فضائی معیار مانیٹرنگ اسٹیشن کام کر رہے ہیں۔ ان مراکز کے ذریعے سلفر ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ، پی ایم 10، پی ایم 2.5، کاربن مونو آکسائیڈ، اوزون، امونیا اور بینزین جیسے مضر عناصر کی نگرانی کی جاتی ہے۔دستی مراکز سے ہفتے میں دو مرتبہ 24 گھنٹے کے ڈیٹا حاصل کیے جاتے ہیں، جبکہ مسلسل مانیٹرنگ اسٹیشن دن رات کام کرتے ہیں۔ یہ تمام معلومات مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کو آن لائن فراہم کی جاتی ہیں اور عوام کے لیے ویب سائٹ پر دستیاب ہوتی ہیں۔بنگلورو کے 11 کنٹینیوس مانیٹرنگ اسٹیشن روزانہ ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) کی رپورٹ محکمہ جاتی افسران اور میڈیا کو ایس ایم ایس کے ذریعے بھیجتے ہیں۔آلودگی پر قابو پانے کے لیے بنگلورو میں 44 نکاتی ایکشن پلان نافذ کیا گیا ہے، جبکہ ہبلی-دھارواڑ، کلبرگی اور داونگیری میں 27 نکاتی منصوبہ پر عمل ہو رہا ہے۔ آلودگی کے اسباب کی نشاندہی کے لیے تحقیقی مطالعے بھی جاری ہیں، جن میں بنگلورو کے لیے CSTEP اور دیگر شہروں کے لیے آئی آئی ٹی مدراس سرگرم ہیں۔ حکام کے مطابق ان مطالعات کی روشنی میں مستقبل میں مزید مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔کرناٹک محکمہ جنگلات و ماحولیات کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ“سخت قانونی نفاذ، مسلسل نگرانی اور عوامی بیداری ہی فضائی آلودگی کو کم کرنے کے مؤثر ذرائع ہیں۔”صنعتی اداروں پر ایئر پولیوشن کنٹرول ایکٹ 1981 کے تحت سختی سے عمل درآمد کروایا جا رہا ہے، جبکہ کیمیکل اور صنعتی اخراج کی مسلسل نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔شہری علاقوں میں کچرے، پتوں اور ٹہنیوں کو جلانے پر مکمل پابندی عائد ہے، تعمیراتی ملبہ ڈھکے ہوئے گاڑیوں میں منتقل کرنے اور گرد و غبار روکنے کے لیے پانی کا چھڑکاؤ لازمی قرار دیا گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ ان تمام اقدامات کا مقصد شہریوں کو صاف ہوا فراہم کرنا اور عوامی صحت کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
