بھٹکل (فکروخبرنیوز) بھٹکل تعلقہ میں آدھار کارڈ بنوانا یا اس میں معمولی سی تصحیح کرانا بھی عوام کے لیے ایک کڑا امتحان بن گیا ہے۔ صبح سویرے لمبی قطاریں، محدود ٹوکن، بار بار چکر اور خالی ہاتھ واپسی — یہ مناظر اب روز کا معمول بن چکے ہیں، جس نے شہریوں خصوصاً مزدور طبقے کو شدید ذہنی اور معاشی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی بھٹکل پوسٹ آفس کے باہر علی الصبح سے طویل قطاریں لگنا معمول بن چکا ہے۔ بزرگ شہری، خواتین اور دور دراز دیہی علاقوں سے آنے والے افراد گھنٹوں انتظار کے باوجود خالی ہاتھ لوٹنے پر مجبور ہیں، جس سے عوام میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق، اس سے قبل منی ودھان سودھا میں قائم آدھار مرکز تقریباً ایک ماہ قبل بند کر دیا گیا، جس کے بعد پورے تعلقہ میں صرف پوسٹ آفس ہی واحد مرکز رہ گیا ہے۔ موجودہ صورتحال میں پیر سے ہفتہ تک روزانہ محض 30 تا 40 ٹوکن جاری کیے جا رہے ہیں، جس سے ہزاروں افراد کی ضروریات پوری ہونا ناممکن ہو گیا ہے۔سب سے زیادہ متاثر یومیہ مزدوری کرنے والے افراد ہو رہے ہیں، جو روزگار چھوڑ کر بار بار پوسٹ آفس کے چکر لگانے پر مجبور ہیں۔ کئی افراد کا کہنا ہے کہ ایک معمولی تصحیح کے لیے ہفتوں انتظار کرنا پڑ رہا ہے، جس کے باعث اسکول داخلہ، بینک کام، سرکاری اسکیموں اور دیگر اہم امور تعطل کا شکار ہو رہے ہیں۔شہریوں نے ضلع انتظامیہ اور یو آئی ڈی اے آئی (UIDAI) سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر بھٹکل تعلقہ میں اضافی آدھار مراکز قائم کیے جائیں، منی ودھان سودھا میں سابقہ مرکز کو بحال کیا جائے اور روزانہ ٹوکن کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے تاکہ عوام کو اس بنیادی شناختی خدمت کے لیے در بدر نہ ہونا پڑے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ آدھار آج ہر سرکاری و نجی کام کے لیے ناگزیر بن چکا ہے، ایسے میں اس کی سہولتوں میں کمی عوامی مسائل کو مزید گھمبیر بنا سکتی ہے۔ انتظامیہ کی بروقت مداخلت ہی اس بڑھتے بحران کا واحد حل ہے۔
