6 سال سے قید عمر خالد کو ہفتہ میں دو مرتبہ اہل خانہ سے ویڈیو کال کی اجازت

دہلی کی ایک سیشن عدالت نے شمال مشرقی دہلی فسادات کی مبینہ سازش کے مقدمے کے تحت گزشتہ چھ سال سے جیل میں بند جے این یو کے سابق طلبہ رہنما عمر خالد کو ایک بڑی راحت دی ہے۔ عدالت نے عمر خالد کو اپنے اہل خانہ اور والدہ سے ہفتے میں دو بار ویڈیو کال (ای ملاقات) کے ذریعے گفتگو کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج سمیر واجپئی نے عمر خالد کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے یہ اہم فیصلہ سنایا اور واضح کیا کہ چونکہ درخواست گزار کا جیل میں رویہ انتہائی اطمینان بخش رہا ہے اور انہوں نے کبھی کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی، اس لیے انہیں اس بنیادی انسانی سہولت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

عمر خالد نے اپنے وکیل کے ذریعے عدالت میں ایک درخواست دائر کی تھی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ جیل میں قید کے دوران انہیں مستقل طور پر ہفتے میں دو بار ویڈیو کال کے ذریعے اپنی والدہ اور دیگر قریبی رشتہ داروں سے رابطے کی سہولت حاصل تھی۔ تاہم، رواں سال مئی کے مہینے سے جیل انتظامیہ نے بغیر کوئی ٹھوس وجہ بتائے یا پیشگی اطلاع دیے اس سہولت کو گھٹا کر ہفتے میں صرف ایک بار کر دیا تھا۔ عمر خالد کے دفاعی وکیل نے عدالت کے سامنے دلیل دی کہ اس اچانک کٹوتی سے قیدی کے ذہنی سکون اور ان کے خاندانی روابط پر منفی اثر پڑ رہا ہے، لہٰذا پرانی ترتیب کو بحال کیا جائے۔

دوسری جانب تہاڑ جیل انتظامیہ نے عدالت میں عمر خالد کی اس مانگ کی سخت مخالفت کی۔ سرکاری وکیل اور جیل حکام نے عدالت کو بتایا کہ موجودہ جیل مینوئل اور ضوابط کے تحت قیدی صرف ہفتے میں ایک بار ہی ای ملاقات کا حقدار ہے، اس لیے مئی میں کی گئی کٹوتی قواعد کے عین مطابق تھی۔ تاہم، عدالت نے جیل انتظامیہ کے اس سخت گیر رویے اور دلیل کو یکسر مسترد کر دیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار گزشتہ چھ سال سے مسلسل اس سہولت کا استعمال کر رہے ہیں اور اس طویل عرصے کے دوران ان کے خلاف جیل مینوئل کی خلاف ورزی کا ایک بھی واقعہ یا شکایت درج نہیں ہوئی۔

انسانی حقوق کے کارکنان اور عمر خالد کے حامی اس فیصلے کو ایک اہم اخلاقی جیت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ واضح رہے کہ عمر خالد کو ستمبر 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کی مبینہ سازش کے الزام میں سخت گیر قانون یو اے پی اے (UAPA) کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور وہ تب سے بغیر کسی عدالتی سزا یا باضابطہ ٹرائل کے سلاخوں کے پیچھے زندگی گزار رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں اور سول سوسائٹی کے ارکان کی جانب سے مسلسل یہ سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں کہ عمر خالد کو نہ تو رہا کیا جا رہا ہے اور نہ ہی انہیں ضمانت دی جا رہی ہے، جو کہ بنیادی آئینی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔

عدالت کے اس حالیہ فیصلے سے جیلوں میں بند سیاسی قیدیوں کے بنیادی حقوق اور ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے انسانی سلوک کی اہمیت ایک بار پھر اجاگر ہوئی ہے۔ جج سمیر واجپئی نے اپنے تحریری حکم نامے میں جیل حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ عمر خالد کی اپنی والدہ اور خاندان کے دیگر ارکان سے ہفتے میں دو مرتبہ ویڈیو کال کے ذریعے بات چیت کا فوری اور مناسب انتظام کریں۔

شیئر کریں۔