بنگلورو :وزیر اعلیٰ سدارامیا نے ہفتہ کے روز ریاست کرناٹک میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے موبائل فون اور سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگانے کی تجویز پر وائس چانسلرز اور تعلیمی سربراہان سے رائے طلب کی ہے۔
کرناٹک اسٹیٹ ہائر ایجوکیشن کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گیجٹس کا بے تحاشا استعمال بچوں کی تعلیم، رویے اور ذہنی صحت پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آسٹریلیا جیسے ممالک میں نافذ کیے گئے اقدامات کا مطالعہ کر رہی ہے اور اسی طرز کے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے واضح الفاظ میں کہا کہ بچے منشیات جیسے مسائل کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ آسٹریلیا میں ہونے والی پیش رفت کے مطابق 16 سال سے کم عمر طلبہ کے لیے موبائل فون کے استعمال پر پابندی پر غور ہو رہا ہے۔ اس سلسلے میں میں آپ سب کی رائے چاہتا ہوں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ تجویز بالغ افراد پر لاگو نہیں ہوگی۔
اجلاس کے دوران جہاں کئی وائس چانسلرز نے اس تجویز کی حمایت کی، وہیں بعض نے عملی مسائل کی نشاندہی بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ متعدد اسکول موبائل ایپلیکیشنز کے ذریعے ہوم ورک اور تعلیمی مواد فراہم کرتے ہیں، جس سے مکمل پابندی میں دشواریاں پیش آ سکتی ہیں۔
ان خدشات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ حکومت کی بنیادی تشویش سرکاری اسکولوں کے طلبہ ہیں، جنہیں گمراہی سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔
سرکاری عہدیداروں کے مطابق حکومت نے تعلیمی سربراہوں سے باضابطہ طور پر اس تجویز کی فزیبلٹی، نفاذ کے طریقۂ کار اور تعلیمی مقاصد کے لیے ممکنہ رعایتوں پر رائے طلب کی ہے۔
یہ تجویز نوعمر بچوں میں سوشل میڈیا کی بڑھتی ہوئی لت کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کا بے جا استعمال تعلیمی توجہ میں کمی، رویے میں بگاڑ، ذہنی صحت کے مسائل اور منشیات کے نیٹ ورکس سمیت نقصان دہ مواد تک رسائی کا سبب بن رہا ہے۔
دریں اثنا، حالیہ اسمبلی اجلاس کے دوران ریاست کے وزیر برائے الیکٹرانکس اور آئی ٹی/بی ٹی پریانک کھرگے نے کہا کہ حکومت بچوں کے ذریعے مصنوعی ذہانت اور سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ دیگر ریاستوں میں بھی اسی نوعیت کی بحث جاری ہے۔ حکومت گوا بھی 16 سال سے کم عمر بچوں کو انسٹاگرام، فیس بک اور ایکس جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی سے روکنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔
