نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کو کہا کہ ہندو، سکھ یا بدھ مت کے علاوہ کسی اور مذہب اختیار کرنے سے درج فہرست ذات کا درجہ ختم ہو جاتا ہے۔
عدالت عظمیٰ نے آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے حکم کو برقرار رکھتے ہوئے یہ ریمارکس دیے۔ ہائی کورٹ کے حکم میں کہا گیا تھا کہ اگر کوئی شخص عیسائیت قبول کر لیتا ہے، کھلے عام اس کا دعویٰ کرتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے تو وہ درج فہرست ذات کا رکن نہیں رہ جاتا۔
اس معاملے پر سپریم کورٹ میں جسٹس پرشانت کمار مشرا کی قیادت والی بنچ نے بھی تبدیلی مذہب کرنے والے شخص کے خلاف فیصلہ سنایا۔ بنچ نے کہا کہ موجودہ کیس میں درخواست گزار نے عیسائیت چھوڑ کر اپنے سابقہ مذہب میں واپس نہیں آیا اور نہ ہی اسے مادیکا کمیونٹی میں واپس قبول کیا گیا۔
بنچ نے نوٹ کیا کہ اپیل کنندہ عیسائیت کا دعویٰ کرتا رہا اور ایک دہائی سے زائد عرصے سے بطور پادری کام کر رہا ہے، نیز گاؤں کے گھروں میں عیسائی مذہب کے مطابق اتوار دعائیہ اجتماعات منعقد کر رہا ہے۔
بنچ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ مبینہ واقعے (اس پر حملے) کے وقت گھر میں دعائیہ اجتماعات کر رہا تھا۔ اس پس منظر میں بنچ نے کہا کہ وہ واقعے کی تاریخ تک عیسائی رہے۔ بنچ نے کہا کہ کوئی بھی شخص جو ہندو، سکھ یا بدھ مت کے علاوہ کسی اور مذہب کا دعویٰ کرتا ہے، اسے درج فہرست ذات کا رکن نہیں مانا جا سکتا۔
بنچ نے کہا کہ کسی دوسرے مذہب میں جانے کے نتیجے میں درج فہرست ذات کا درجہ ختم ہو جاتا ہے۔ اس معاملے میں تفصیلی آرڈر آج بعد میں اپ لوڈ کیا جائے گا۔
یہ معاملہ ایک ایسے شخص سے متعلق تھا جس نے عیسائیت اختیار کر لی ہے اور ایک پادری کے طور پر کام کر رہا ہے۔ اس نے کچھ لوگوں کے خلاف درج فہرست ذات، درج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا تھا جنہوں نے مبینہ طور پر اس پر حملہ کیا تھا۔
اس شخص نے ایس سی اینڈ ایس ٹی ایکٹ کے تحت تحفظ کا دعویٰ کیا۔ ملزمین نے اسے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اس نے مذہب تبدیل کر لیا ہے اور وہ ایک سرگرم عیسائی ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے۔
اپریل سال 2025 میں ہائی کورٹ نے فیصلہ کیا کہ ذات پات کا نظام عیسائیت کے لیے اجنبی ہے اور اس کے نتیجے میں فرد کو درج فہرست ذات، درج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) ایکٹ کی دفعات کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
واضح رہے کہ بھارتی آئین میں صدارتی حکم (آرڈر 1950) کے تحت مسلمانوں اور عیسائیوں کو درج فہرست ذات (ایس سی) اور درج فہرست قبائل کا درجہ حاصل کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
