واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعرات کو بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کرنے والے اور اس سے ابھی تک دوری بنانے والے دو درجن سے زائد ممالک کے نمائندوں کے ساتھ اہم اجلاس کی صدارت کریں گے۔ آج بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس کے لیے جنگ سے تباہ حال غزہ کی تعمیر نو اور بین الاقوامی استحکام فورس کی تعمیر پر توجہ دی جائے گی۔
ٹرمپ نے اجلاس سے قبل اعلان کیا ہے کہ بورڈ کے اراکین نے تعمیر نو کے لیے پانچ بلین ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے، جو کہ تباہ شدہ فلسطینی علاقے کی تعمیر نو کے لیے درکار تخمینہ 70 بلین ڈالر کا ایک حصہ ہے۔ اجلاس میں بورڈ آف پیس سے منسلک ممالک سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ غزہ کے لیے بین الاقوامی استحکام اور پولیس فورسز کے لیے ہزاروں اہلکار فراہم کرنے کا وعدہ بھی کریں گے۔
ٹرمپ نے اس ہفتے کے شروع میں نامہ نگاروں کو بتایا تھا کہ "ہمارے پاس دنیا کے سب سے بڑے لیڈران بورڈ آف پیس میں شامل ہو رہے ہیں۔” انھوں نے کہا، "میرے خیال میں اس (بورڈ آف پیس) کے پاس کسی بھی قسم کا سب سے زیادہ نتیجہ خیز بورڈ بننے کا موقع ہے۔”
یہ بورڈ غزہ میں تنازع کے خاتمے کے لیے ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کے ایک حصے کے طور پر شروع کیا گیا تھا۔ لیکن اکتوبر کی جنگ بندی کے بعد سے، بورڈ کے لیے ٹرمپ کا وژن بدل گیا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ یہ بورڈ صرف غزہ تک ہی محدود نہ رہے بلکہ دنیا بھر میں جہاں بھی کشیدہ حالات ہوں وہاں امن کے لیے کام کرے۔
ٹرمپ کے اس وسیع وژن نے اس خدشے کو جنم دیا ہے کہ امریکی صدر بورڈ کے قیام سے اقوام متحدہ کے لیے حریف پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالانکہ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کو ایک بڑی تنظیم قرار دیا ہے تاہم کہا ہے کہ وہ اپنی صلاحیت کے مطابق کام نہیں کر رہا۔
کچھ امریکی اتحادیوں کو شکوک و شبہات کا سامنا
40 سے زائد ممالک اور یورپی یونین نے تصدیق کی ہے کہ وہ جمعرات کے اجلاس میں حکام کو بھیج رہے ہیں۔ انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق جرمنی، اٹلی، ناروے اور سوئٹزرلینڈ ایک درجن سے زائد ممالک میں شامل ہیں جنہوں نے بورڈ میں شمولیت اختیار نہیں کی ہے لیکن توقع ہے کہ وہ بطور مبصر شرکت کریں گے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بدھ کے روز جنگ بندی معاہدے اور مغربی کنارے میں کنٹرول کو بڑھانے کے لیے اسرائیل کی کوششوں پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کا اجلاس اصل میں جمعرات کو ہونا تھا لیکن ٹرمپ کی جانب سے اسی تاریخ کے لیے بورڈ کے اجلاس کا اعلان کرنے کے بعد اسے آگے بڑھا دیا گیا ۔
ویٹیکن نے بین الاقوامی سطح پر بحرانی حالات سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کی حمایت کی حمایت کی ہے۔ ویٹیکن کے سکریٹری آف اسٹیٹ کارڈینل پیٹرو پیرولن نے اس ہفتے کے شروع میں اس بات کو واضح کر دیا ہے۔لیکن ٹرمپ انتظامیہ نے بدھ کے روز ویٹیکن کے خدشات کو مسترد کر دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ "اس صدر (ٹرمپ) کے پاس غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک بہت ہی جرات مندانہ اور پرجوش منصوبہ اور وژن ہے، جو کہ بورڈ آف پیس کی وجہ سے اچھی طرح سے جاری ہے۔”انھوں نے کہا، "یہ ایک جائز تنظیم ہے جس میں دنیا بھر کے دسیوں ممبر ممالک ہیں۔”
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے بھی شکوک ظاہر کرنے والے اپنے اتحادیوں کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ بورڈ "بات نہیں کر رہا، یہ کام کر رہا ہے۔”
حماس کو غیر مسلح کرنا ایک بڑا چیلنج
جمعرات کو ہونے والی بات چیت کا مرکز سلامتی کو برقرار رکھنے اور حماس کو غیر مسلح کرنے کو یقینی بنانے کے لیے ایک مسلح بین الاقوامی اسٹیبلائزیشن فورس تشکیل دینے پر ہوگا۔ یہ اسرائیل کا ایک اہم مطالبہ ہے اور جنگ بندی کے معاہدے کا سنگ بنیاد ہے۔
لیکن ابھی تک، صرف انڈونیشیا نے ٹرمپ کو مجوزہ فورس کے لیے پختہ عزم کی پیشکش کی ہے۔ اور حماس نے تخفیف اسلحہ پر آگے بڑھنے پر مکمل رضا مندی ظاہر نہیں کی ہے۔۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ "غیر مسلح کرنے کو لے کر چیلنجوں کے بارے میں کسی وہم میں نہیں ہے” لیکن ثالثوں نے جو رپورٹ دی ہے اس سے اس کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔
جمعرات کو، غزہ کے ایگزیکٹو بورڈ، بورڈ کے آپریشنل بازو سے، علاقے کے لیے ایک فعال حکومتی نظام اور خدمات کی تشکیل کے لیے اپنی کوششوں کے بارے میں اپ ڈیٹس کی توقع کی جا رہی ہے۔
عہدیدار نے بتایا کہ ٹرمپ کے علاوہ کانفرنس کے دیگر مقررین میں سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو، ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹ کوف، ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر، سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر، ایگزیکٹو بورڈ کے اعلیٰ نمائندے نکولے ملاڈینوف اور والٹز شامل ہوں گے۔
